اوباما کو زہرآلود خط بھیجنے کا ’ملزم‘ گرفتار

امریکی ریاست مسسیپی میں مارشل آرٹس کے ایک ماہر کو رائسن زہر جمع کرنے اور اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیاگیا ہے۔

اکتالیس سالہ جیمز ایورٹ ڈسٹکی کو امریکی صدر براک اوباما، ریپلیکن سینٹر اور ایک جج کو رائسن سے آلودہ خطوط بھیجنے کے واقعات کی تحقیقات کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔

جمیز ایورٹ ڈسٹکی پر الزام ہے کہ اس نے رائسن زہر کو جمع کیا اور اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی۔

ایف بی آئی کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ جمیز ایورٹ ڈسٹکی کو ان کے ٹوپیلو میں واقع گھر سے گرفتار کیاگیا ہے۔

اگر جمیز ایورٹ ڈسٹکی پر لگائے گئے الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

منگل کے روز استغاثہ نے انہیں الزامات کے تحت گرفتار ایک اور شخص کیون کرٹس کو رہا کر دیا تھا۔

جیمز ایورٹ ڈسٹکی کی وکیل نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا تھا کہ ان کے موکل کا زہرآلود خطوط سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حکام نے زہرآلود خطوط کو ان کے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

ان زہرآلود خطوط کا معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب بوسٹن میں میراتھن کے موقع پر ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔

رائیسن کا سفوف ارنڈ کے بیجوں سے تیار کیا جاتا ہےاور یہ انسانی جان کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔