عراق:الجزیرہ سمیت دس ٹی وی چينلز پر پابندی

Image caption الجزیرہ نے عراقی حکومت کے الزامات کو مسترد کیا ہے

عراق میں حکومت نے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد بڑھانے کے الزام میں معروف ٹی وی چینل الجزیرہ سمیت دس ٹی وی چینلز کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں۔

الجزیرہ کے حکومت کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ فرقہ واریت اور تشدد کو بڑھانے کی وجہ سے ان چینلز کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

عراق کے کمیونیکیشن اور میڈیا کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان چینلز نے صورتِ حال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، غلط معلومات فراہم کیں، مقامی افراد کو قانون کی خلاف ورزی کرنے اور عراق کی سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کے لیے اکسایا۔

بیان کے مطابق پابندی کے بعد ان چینلز کو کسی بھی واقعے کو کور کرنے کی جازت نہیں ہوگي، اس کے علاوہ ان پر مختلف جگہوں پر آنے جانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

عراق کی حکومت نے اس ضمن میں معروف ٹی وی چینل الجزیرہ پر بھی پابندی عائد کی ہے لیکن چینل نے حکومت کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

عراق میں حالیہ دنوں شعیہ سنی فرقہ وارنہ تشدد میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم نوری المالکی نے ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ ورانہ تشدد کے حوالے سے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ عراق کو تشدد سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان کا یہ بیان سنہ 2011 کے آخر میں امریکی افواج کے انخلاء کے بعد تشدد کے بدترین ہفتے کے بعد سامنے آیا ہے۔

انہوں نے تشدد کی اس لہر کی واپسی کو شام میں جاری تشدد سے بظاہر جوڑنے کی کوشش کی۔

عراق میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شام کے سبب عراق میں فرقہ وارانہ تشدد دوبارہ شروع نہ ہو جائے۔

اسی بارے میں