ڈھاکہ:’ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش ختم‘

ڈھاکہ
Image caption ملبے سے لاشیں نکالنے اور دفنانے کے عمل کے دوران بدبو کی وجہ سے کئی امدادی کارکن بیمار پڑ گئے

بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ اب دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے سوار میں منہدم ہونے والی آٹھ منزلہ عمارت کے ملبے سے کسی شخص کے زندہ ملنے کی کوئی امید نہیں ہے۔

گزشتہ بدھ کو اس عمارت کے انہدام سے اب تک 380 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ادھر حکام نے فیکٹری کے مالک محمد سہیل رانا کو بھارتی سرحد کے قریب سے گرفتار کر کے ڈھاکہ پہنچا دیا ہے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سے ملبہ اٹھانے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال شروع ہوگیا ہے اور ملبہ ہٹانے کے لیے کرینوں اور بڑے ’کٹرز‘ کی مدد لی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے بھی پہلی مرتبہ پیر کو جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق انہوں نے بعدازاں ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی اور انہیں حکومت کی جانب سے مدد کا یقین دلایا۔

اس سے قبل عمارت کے ملبے میں لوہا کاٹنے والے آلات سے اٹھنے والی چنگاریوں سے آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے بعد ملبے میں پھنسے مزید لوگوں کو ڈھونڈ نکالنے کی امیدیں معدوم ہوگئی تھیں۔

یہ آگ عمارت کی تیسری منزل کے ملبے میں لگی جس سے امدادی کارروائیوں میں بھی خلل پڑا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ چونکہ اس عمارت میں ملبوسات تیار کرنے کے کارخانے تھے اس لیے ممکن ہے کہ ملبے میں موجود کپڑے نے آگ پکڑ لی ہو۔

جائے وقوع پر موجود بی بی سی کے امبراسن ایتھیراجن کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ امدادی کارکن رات گئے تک ایک عورت کو بچانے کی کوششیں کرتے رہے لیکن ناکام رہے اور پھر بعدازاں اس کی ہلاکت کا اعلان کر دیا گیا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملبے سے لاشیں نکالنے اور دفنانے کے عمل کے دوران بدبو کی وجہ سے کئی امدادی کارکن بیمار پڑ گئے ہیں۔

Image caption جب عمارت گری تو اس میں تین ہزار کے قریب افراد موجود تھے

اندازوں کے مطابق جب عمارت گری تو اس میں تین ہزار کے قریب افراد موجود تھے جن میں سے 2430 اس حادثے میں زخمی ہوئے تاہم یا تو وہ خود نکلنے میں کامیاب رہے یا انہیں نکال لیا گیا۔

پولیس کے مطابق گزشتہ بدھ کو سوار کے علاقے میں گرنے والی رانا پلازہ نامی اس عمارت کے ملبے تلے دب کر 380 افراد ہلاک ہوئے۔ان کے علاوہ سینکڑوں افراد کے تاحال لاپتا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

فائر سروس کے ایک اعلیٰ اہلکار اکرم حسین کا کہنا ہے کہ لا پتہ لوگوں کی تعداد کے سرکاری اعدادو شمار نہیں لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ ہر لمحے ان کے بچنے کی امیدیں کم سے کم ہوتی جا رہی ہیں۔

اس حادثے میں لاپتا ہونے والے افراد کے لواحقین کی بڑی تعداد اب بھی جائے وقوعہ پر موجود ہے۔

ادھر اتوار کی شام بنگلہ دیش کی حکومت کے وزیر جہانگیر کبیر نانک نے جائے وقوعہ پر آ کر عمارت کے مالک محمد سہیل رانا کی گرفتاری کا اعلان کیا۔

سہیل رانا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ برسراقتدار جماعت عوامی لیگ کے یوتھ ونگ کے رہنما ہیں۔ انہیں بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی سرحد کے قریب بیناپول کے علاقے سے گرفتار کیا گیا۔

بنگلہ دیشی ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں انہیں ہتھکڑیاں لگا کر ہیلی کاپٹر کی مدد سے ڈھاکہ لاتے دکھایا گیا ہے۔

سہیل رانا کو گرفتار کرنے والی ٹیم کے رکن مخلص الرحمان نے بتایا کہ ’وہ مختلف مقامات پر چھپا رہا اور بار بار اپنی جگہ بدلتا رہا۔ وہ شہر سے باہر دو سے تین اضلاع میں رہا اور پھر بھارت کی سرحد کے قریب پہنچ گیا اور اس بات کا امکان تھا کہ وہ بھارت فرار ہو جاتا۔‘

Image caption سہیل رانا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ برسراقتدار جماعت عوامی لیگ کے یوتھ ونگ کے رہنما ہیں

انہوں نے کہا کہ ’اطلاع ملنے پر ہم بذریعہ ہیلی کاپٹر جیسور پہنچے اور اسے بیناپول کے چیک پوائنٹ سے حراست میں لیا گیا۔‘

اس سے قبل بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اعلان کے بعد کہ اس حادثے کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی، رانا پلازہ نامی عمارت میں قائم تین فیکٹریوں کے مالکان اور دو انجینیئروں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

ان دونوں انجینيئروں پر الزام ہے کہ انھوں نے اس عمارت گرنے سے ایک دن قبل اسے محفوظ قرار دیا تھا۔ ان دونوں پر لاپرواہی برتنے کا الزام ہے۔

بنگلہ دیش میں حفاظتی معیار سے غفلت کے نتیجے میں عمارتوں کے منہدم ہونے یا ان میں آتشزدگ کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس نومبر میں ڈھاکہ میں کپڑوں کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 110 افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں