’عمارت کیا گری میرا تو مستقبل تاریک ہوگیا‘

Image caption میرے پاس حکومتی امداد پر تکیہ کرنے کے سِوا کوئی چارہ نہیں:کمولا بیگم

کمولا بیگم کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے کیونکہ وہ اپنے شوہر کی لاش کی منتظر ہیں۔

42 سالہ محمد حنیف ملبوسات تیار کرنے والے کارخانوں کے ان سینکڑوں کارکنوں میں سے ایک تھے جو سوار کے علاقے میں منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے تلے دب کر چل بسے۔

ان کی اہلیہ پر غشی کے دورے پڑ رہے ہیں اور جب بھی وہ ہوش میں آتی ہیں ان کے لب پر ایک ہی سوال ہوتا ہے ’اے اللہ میں کیسے اپنی بیٹیوں کو پالوں گی اور ان کی پرورش کروں گی؟‘

چار افراد پر مشتمل اس خاندان کے واحد کفیل محمد حنیف رانا پلازہ میں واقع ایک کارخانے میں سپروائزر تھے۔

کمولا بیگم کا کہنا ہے کہ حنیف کو ان کے کارخانے کے مالک نے فون کر کے کام پر بلایا تھا۔

’میں ان کی منت کرتی رہی کہ وہ نہ جائیں لیکن انہوں نے کہا کہ ایک ’شپمنٹ‘ بھیجنی ہے اور شاید ایک ماہ کی تنخواہ بھی مل جائے۔ اور اب وہ اس دنیا میں ہی نہیں رہے۔‘

انہوں نے کہا ’مجھے اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔ میرے پاس حکومتی امداد پر تکیہ کرنے کے سِوا کوئی چارہ نہیں۔‘

گزشتہ ہفتے جب رانا پلازہ کی عمارت گری تو اس وقت اندازوں کے مطابق اس میں 3000 افراد موجود تھے۔

حادثے سے ایک دن قبل عمارت میں دراڑیں پڑنے کے بعد وہاں واقع ایک بینک اور کئی دکانیں بند کر دی گئی تھیں لیکن وہاں قائم ملبوسات بنانے کے تین کارخانے کھلے رہے اور کارکنوں کو کام پر بلایا گیا۔

Image caption میں نے ان کی بات نہ سنی اور سکول چھوڑ دیا۔ اب کون مجھے ڈانٹے گا: صالح

انہی کارکنوں میں 32 سالہ سلمیٰ بیگم بھی تھیں جو اپنے 12 سالہ بیٹے صالح کو گھر چھوڑ کر کام پر آئی تھیں۔

آبدیدہ صالح نے بتایا کہ ’میری ماں کام پر جانے سے قبل مجھے کھانا دے کر گئیں۔ جب مجھے حادثے کے بارے میں پتا چلا تو میں یہاں آیا۔ میں بےتابی سے انہیں ڈھونڈتا رہا لیکن وہ نہ ملیں۔‘

صالح کے مطابق ’چار دن کی تلاش کے بعد آخرِ کار مجھے ان کی لاش مل گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ انہیں نہ پڑھنے پر جھڑک دیا کرتی تھیں لیکن وہ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ’میں نے ان کی بات نہ سنی اور سکول چھوڑ دیا۔ اب کون مجھے ڈانٹے گا؟‘

صالح کی دو بہنیں بھی ہیں۔ ان کے والد 38 سالہ مستفازر شمالی بنگلہ دیش میں ضلع رنگ پور سے بہتر زندگی کی تلاش میں سوار آئے تھے اور وہ یہاں سامان ڈھونے کا کام کرتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں اپنی زندگی سے خوش تھا۔ ہم پیسوں اور مشکل زندگی کے بارے میں جھگڑتے ضرور تھے لیکن پھر مان جاتے تھے۔‘

مستفازر نے کہا کہ ’وہ (سلمیٰ) بہت اچھی ماں تھی اور اس کی تنخواہ سے خاندان کی بہت مدد بھی ہوتی تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’فیکٹری مالکان اور مینیجروں کی جانب سے تنخواہ میں کٹوتی کی دھمکیاں ان کے لیے نئی بات نہ تھیں۔ اگر آپ کام پر نہیں جاتے تو تنخواہ کٹتی ہے۔ اور دراڑیں دیکھنے کے بعد بھی انہوں نے کارکنوں سے یہی کہا۔ میں نے سلمیٰ سے کہا کہ نہ جاؤ مگر وہ نہ مانی۔‘

کمولا بیگم ہوں یا مستفازر انہیں کم از کم اپنے پیاروں کی لاشیں تو مل گئیں لیکن اس عمارت کے آس پاس موجود درجنوں افراد ایسے ہیں جو اب بھی اپنے اہلخانہ یا دوستوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

اسی بارے میں