منہدم عمارت:غیر ملکی امداد نہ لینے کا دفاع

بنگلہ دیش کی حکومت نے دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے سوار میں منہدم ہونے والی آٹھ منزلہ عمارت میں امدادی کاررائیوں کے لیے غیر ملکی امداد قبول نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ بدھ کو اس عمارت کے منہدم ہونے سےکم سے کم 382 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ محی الدین خان عالمگیر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکام کو یقین ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امدادی آپریشن میں مناسب تعداد میں کارکن حصہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عمارت میں پھنسے کم سے کم 3,000 میں 2,430 کو بچایا جا چکا ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ نے کہا’ہم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ہمیں آگ بجھانے کا عملہ، فوج، پولیس اور مقامی رضاکاروں پر فخر ہے‘۔

حکام کے مطابق بنگلہ دیش کی ہنگامی حالات کی سروسز نے اس حوالے سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے میں اب بھی سینکڑوں افراد پھنسے ہوئے ہیں تاہم ان کے زندہ ملنے کی کوئی امید نہیں ہے۔

اس حادثے کا شکار ہونے والے بیشتر افراد کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ ملبوسات تیار کرنے کے کارخانے میں کام کرتے تھے۔

حکام عمارت کے مالک محمد سہیل رانا کو گرفتار کر چکے ہیں۔ محمد سہیل رانا ان آٹھ افراد میں سے ایک ہیں جنھیں دو فیکٹری مالکان سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔

ان افراد پر لاپرواہی برتنے، غیر قانونی عمارت کی تعمیر اور عمارت میں شگاف نظر آنے کے باوجود اپنے سٹاف کو کام پر آنے کے لیے زور ڈالنے کا الزام ہے۔

بنگلہ دیش میں حفاظتی معیار سے غفلت کے نتیجے میں عمارتوں کے منہدم ہونے یا ان میں آتشزدگی کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔

گزشتہ برس نومبر میں ڈھاکہ میں کپڑوں کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 110 افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں