بنگلہ دیش: پولیس اور مظاہرین میں تصادم

بنگلہ دیش میں پولیس نے منہدم ہونے والی آٹھ منزلہ عمارت کے مالک کے خلاف کیے جانے والے مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔

یہ مظاہرین منگل کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے گردونواح میں کیے جانے والے مظاہروں میں عمارت کے مالک محمد سہیل رانا کو موت کی سزا دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ڈھاکہ کے قریب واقع علاقے سوار میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار امبراسن ایتھیراجن کا کہنا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج اس وقت کیا جب انھوں نے متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

نامہ نگار کے مطابق بنگلہ دیش میں مزید پر تشدد ہنگاموں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے متعدد کارخانوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ بدھ کو ایک آٹھ منزلہ عمارت کے منہدم ہونے سےکم سے کم 382 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے تلے اب بھی سینکڑوں افراد پھنسے ہوئے ہیں تاہم ان کے زندہ بچ جانے کی کوئی امید نہیں ہے۔

حکام عمارت کے مالک محمد سہیل رانا کو گرفتار کر چکے ہیں۔ محمد سہیل رانا ان آٹھ افراد میں سے ایک ہیں جنھیں دو فیکٹری مالکان سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔

ان افراد پر لاپرواہی برتنے، غیر قانونی عمارت کی تعمیر اور عمارت میں شگاف نظر آنے کے باوجود اپنے کارکنوں پر کام پر آنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام ہے۔

اس سے پہلے بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے محمد سہیل رانا کے اثاثوں کو ضبط کرنے کے علاوہ عمارت میں چلنے والے پانچ کارخانوں کے مالکان کے اثاثوں کو بھی منجمند کر دیا۔

ادھر امدادی کارکن منہدم ہونے والے عمارت کا ملبہ ہٹانے کا کام ابھی تک کر رہے ہیں۔

اس حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک شخص دالی اختر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کو غیر ملکی امداد قبول کر لینی چاہیے تھی۔

انھوں نے کہا ’ اگر حکومت غیر ملکی امداد قبول کر لیتی تو مرنے والے تمام افراد کی لاشیں دو دنوں میں مل جاتیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حادثے کو رونما ہوئے آج ساتواں دن ہے اور وہ اب بھی اپنے بھائی اور اس کی بیوی کا انتظار کر رہے ہیں جو اس وقت عمارت میں موجود تھے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کی حکومت نے دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے سوار میں منہدم ہونے والی آٹھ منزلہ عمارت میں امدادی کاررائیوں کے لیے غیر ملکی امداد قبول نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ محی الدین خان عالمگیر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکام کو یقین ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امدادی آپریشن میں مناسب تعداد میں کارکن حصہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عمارت میں پھنسے کم سے کم 3,000 میں 2,430 کو بچایا جا چکا ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ نے کہا’ہم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ہمیں آگ بجھانے کا عملہ، فوج، پولیس اور مقامی رضاکاروں پر فخر ہے‘۔

حکام کے مطابق بنگلہ دیش کی ہنگامی حالات کی سروسز نے اس حوالے سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسی بارے میں