گوانتانامو کو بند کر دیا جانا چاہیے: اوباما

Image caption صدر اوباما کی جانب سے اس قید خانے کو بند کیے جانے کے لیے کی گئی تمام کوششوں کی راہ میں کانگریس رکاوٹ رہی ہے

امریکی صدر براک اوباما نے گوانتانامو بے کے قید خانے کو بند کرنے کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قید خانہ ’ہماری روایات کے برخلاف ہے‘ اور امریکی مفادات کے منافی ہے۔

انہوں نے حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے کیسز میں فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سویلین نظامِ انصاف اس طرح کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے۔

صدر اوباما کی جانب سے کی جانے والی تمام کوششوں کی راہ میں کانگریس رکاوٹ رہی ہے مگر صدر اوباما نے کہا ہے کہ وہ کانگریس میں موجود قانون دانوں سے دوبارہ بات چیت کریں گے۔

صدر اوباما نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکام کی ایک ٹیم کو گوانتانامو بے کے قید خانے کے انتظامات پر نظر ثانی کرنے کا کہا ہے اور وہ حیران نہیں ہیں کہ وہاں مسائل موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ کافی نہیں ہے اور یہ ہمیں نقصان پہنچاتی ہے عالمی برادری میں ہمارے مقام کے حوالے سے، اس کی وجہ سے ہمارے حلیفوں کی جانب سے شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون میں بھی فرق پڑتا ہے، یہ شدت پسندوں کے ہاتھ میں نئے افراد کو بھرتی کرنے کا ایک آلہ ہے اور اسے بند کیا جانا چاہیے۔‘

انہوں نے اس قید خانے کو ایک ایسا مسئلہ قرار دیا جو ایک جاری مسئلہ ہے اور اس کا جاری رہنا وقت کے ساتھ ساتھ صورتحال کو خراب کرتا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت اہم ہے کہ ہم سمجھیں کہ گونتانامو بے کی موجودگی امریکہ کو محفوظ رکھنے کی ضمانت نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں جنگ ختم ہوئی اور افغانستان کا قید خانہ افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا تو کیوبا میں واقع اس قید خانے کو بھی بند کیا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ قید خانے میں بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور گزشتہ چند ہفتوں میں ہڑتال کرنے والے افراد کی تعداد سو سے زیادہ ہو چکی ہے۔ قید خانے میں ایک سو سڑسٹھ قیدی رکھے گئے ہیں۔

یہ سیدی غیر میعنہ مدت کے لیے انہیں قید کیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور اکثر کو بغیر کسی جرم کے قید کیا گیا ہے۔

اپنی باتوں میں صدر اوباما بظاہر ان بھوک ہڑتالیوں کو زبردستی کھانا کھلانے کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ یہ لوگ ہلاک ہو جائیں، ظاہر ہے کہ پینٹاگن اس صورتحال سے نمٹنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘

اس سے قبل گوانتانامو بے میں بعض قیدیوں کو مشترکہ کمروں سے نکال کر دوسرے کمروں میں منتقل کرنے کے مسئلے پر قیدیوں اور محافظوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان میں سے بعض قیدی بھوک ہڑتال پر تھے۔

بعض قیدیوں نے الزام عائد کیا کہ محافظوں نے کمروں کی تلاشی کے دوران قران کی بے حرمتی کی۔

امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا تھا جب قیدیوں نے نگرانی کے کیمرے اور کھڑکیوں کو ڈھانپ دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ بعض قیدیوں نے جیل میں ملنے والی چیزوں سے ہتھیار بنا رکھے تھے، اور یہ کہ محافظوں کی طرف سے اس کے جواب میں ان پر چار غیرمہلک گولیاں چلائی گئیں۔

یاد رہے کہ تقریباً ایک سو کے قریب قیدیوں کو آزاد کیے جانے کے لیے منظوری دی جا چکی ہے لیکن وہ کانگریس کی طرف سے عائد کی جانے والی پابندیوں اور ان کے اپنے ملکوں میں برے سلوک کے خدشے کے پیشِ نظر اب بھی وہاں قید ہیں۔

اسی بارے میں