صحافیوں کے لیے مہلک ممالک، پاکستان آٹھویں نمبر پر

صحافیوں کے تحفظ کے عالمی ادارے نے صحافیوں کے لیے بارہ خطرناک ترین ممالک کی ایک فہرست جاری کی ہے جس میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی جانب سے تازہ رپورٹ کے مطابق صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں عراق گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی سر فہرست ہے۔

تاہم سی پی جے کے مطابق پاکستان گذشتہ سال اسی فہرست میں دسویں نمبر پر تھا لیکن ملک میں صحافیوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات اور ان کی ہلاکتوں کے باعث اس مرتبہ پاکستان آٹھویں نمبر پر آگیا ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کے عالمی ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ نائجیریا اور برازیل پہلی بار ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں جہاں صحافیوں پر تشدد کے سب سے زیادہ واقعات ہوتے ہیں اور ان کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں بھی نہیں لایا جاتا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق دو ہزار تین کے امریکی تسلط کے بعد سے لے کر اب تک صحافیوں کے لیے مہلک ترین ملک رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراق میں اگرچہ صحافیوں کے قتل کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن اب بھی نوے سے زیادہ صحافیوں کے قتل کے مقدمات میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور متعلقہ حکام کے ان مقدمات پر کام کرنے کے شواہد بھی نہیں ملے ہیں۔

اس فہرست میں افغانستان، کولمبیا، میکسیکو اور سری لنکا کافی عرصے سے موجود ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کولمبیا نےصحافیوں کے قتل کے مقدمات میں تفتیش مکمل کرنے یا مجرمان کو گرفتار کرنے میں تھوڑی سی پیش رفت کی ہے لیکن افغانستان، سری لنکا اور میکسیکو اس معاملے میں بالکل ناکام رہے ہیں۔

صحافیوں کے تحفظ کے ادارے کے مطابق اس ناکامی کی وجہ سے دیگر مسائل جنم لیتے ہیں جن میں خود ساختہ قدغنیں بھی شامل ہیں۔

سی پی جے نے نائجیریا کو صحافیوں کے لیے مہلک ترین ممالک میں سے ایک کہا ہے جہاں صحافت کے خلاف ہونے والے پر تشدد واقعات پر سزا نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو ہزار نو سے کم از کم پانچ صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے قتل کیا گیا۔

نائجیریا میں آزادی صحافت کے لیے سرگرم کارکن ایوڈے لونج نے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کو بتایا کہ برائے نام تفتیش کی وجہ سے دیگر افراد میں بھی صحافیوں کو قتل کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا کیونکہ اُنہیں یقین ہے کہ اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں