شمالی کوریا: امریکی شہری کو پندرہ سال قیدِ با مشقت

Image caption چوالیس سالہ پاؤ کو گذشتہ نومبر میں ساحلی شہر راسن سے گرفتار کیا گیا تھا

شمالی کوریا کی سپریم کورٹ نے ایک امریکی شہری کو شمالی کوریا کے خلاف جرائم کرنے کے الزام میں پندرہ سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبررساں ادارے کے سی این اے کے مطابق پاؤ ژون یوکو جو امریکہ میں کینیت باؤ کے نام سے جانے جاتے ہیں تیس اپریل کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے فروری میں تیسرا جوہری دھماکا کرنے کے بعد امریکہ اور شمالی کوریا کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

چوالیس سالہ پاؤ کو گذشتہ نومبر میں ساحلی شہر راسن سے گرفتار کیا گیا تھا۔

شمالی کوریا کی میڈیا نے گذشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ پاؤ نے شمالی کوریا کے خلاف حکومت کا تختہ پلٹانے سمیت کئی جرائم کا اعتراف کیا تھا۔

ملک کی سرکاری خبر رساں ادارے نے کہا کہ’ان جرائم کی پاداش میں سپریم کورٹ نے انہیں پندرہ سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی۔‘

امریکہ کے دفترِ خارجہ کے ترجمان پیٹرک ونٹریل نے کہا کہ’ہم شمالی کوریا سے کہتے ہیں کہ وہ کینیت باؤ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری طور پر رہا کرے۔‘

پاؤ کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کوریائی نژاد امریکی ٹور اپریٹر ہیں۔

شمالی کوریا حالیہ سالوں میں کئی امریکی شہریوں کو گرفتار کر چکا ہے۔ ان گرفتار شدگان میں صحافی اور عیسائی شامل تھے جن پر لوگوں کو مذہب بدلنے کے لیے اگسانے کا الزام تھا۔

ان قید افراد کو سابق امریکی صدور بل کلنٹن ، جمی کارٹر جسیے معتبر امریکی شخصیات کی مداخلت کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ یہ دونوں شحصیات شمالی کوریا گئے تھے۔

بل کلنٹن نے 2009 میں دو امریکی صحافیوں کی رہائی کے لیے شمالی کوریا سے مذاکرات کیے تھے۔ ان صحافیوں پر غیر قانونی طور پر شمالی کوریا میں داخل ہونے کا الزام تھا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا جزیرہ نما کوریا پر کشیدہ صورتِ حال میں جیل میں قید امریکی کو رعایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ نے شمالی کوریا پر فروری میں تیسرا جوہری دھماکہ کرنے کے بعد پابندیاں عائد کی تھیں اور مارچ میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے مشترکہ جنگی مشقیں شروع کی تھیں۔جس پر شمالی کوریا نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا تھا۔

اسی بارے میں