سعودی عرب میں سیلاب سے 13 افراد ہلاک

Image caption ۔ 2009 میں جدہ میں فوری سیلاب سے 123 افراد ہلاک ہو گئے تھے

سعودی عرب میں اچانک آنے والے سیلاب سے کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جب کہ چار اب بھی لاپتا ہیں۔

یہ اموات دارالحکومت ریاض، جنوبی قصبے باحہ اور شمال مغرب میں حائل نامی قصبے میں ہوئی ہیں۔

سعودی شہری دفاع کے ادارے نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسی وادیوں اور میدانوں میں جانے سے گریز کریں جہاں گذشتہ جمعے سے شروع ہونے والی طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب آ گیا تھا۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ ملک کی تاریخ میں گذشتہ 25 برسوں میں ہونے والی شدید ترین بارشیں ہیں۔

سعودی ٹیلی ویژن نے تصویریں دکھائی ہیں جن میں لوگ پانی سے بچنے کے لیے درختوں اور کاروں کی چھتوں پر چڑھے ہوئے ہیں۔

اتوار کو سعودی عرب کے وزیرِ داخلہ شہزادہ محمد بن نائف نے شہری دفاع کے حکام سے کہا کہ وہ متاثرہ لوگوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے آپس میں تعاون کریں۔

ایک ترجمان نے کہا کہ وزیر صورتِ حال کا قریبی جائزہ لے رہے ہیں۔

ماضی میں سعودی حکام پر سیلاب کے لیے تیار نہ ہونے پر تنقید ہوتی رہی ہے۔ 2009 میں جدہ میں اچانک سیلاب سے 123 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ 2011 میں دس لوگ مارے گئے تھے۔

2009 میں جدہ کے تعمیراتی ڈھانچے میں سیلابی پانی کو خارج نہ کر پانے کی صلاحیت اور شہر کے گرد بے قابو تعمیرات کو ہلاک ہونے والوں کی بڑی تعداد کا باعث قرار دیا گیا تھا۔

اس وقت شاہ عبداللہ نے کہا تھا، ’ہم ان غلطیوں اور فروگزاشتوں کو نظرانداز نہیں کر سکتے، اور جن سے سختی سے نمٹنا چاہیے۔‘

تاہم ناقدین نے کہا ہے کہ اس وعدے کے باوجود فوری سیلابوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

اسی بارے میں