امریکہ:تیمرلان کی لاش کو دفنانے پر تنازع

Image caption تیمرلان سارنائیف کی موت کی سند کے مطابق ان کی موت انیس اپریل کو ایک بج کر پینتیس منٹ پر ہوئی

امریکی شہر بوسٹن میں میراتھن بم دھماکوں کے ملزم تیمرلان سارنائیف کی لاش کو دفنانے کے لیے قبرستان کی تلاش میں مشکل کو سامنا ہے۔

امریکی ریاست میساچوسٹس کے علاقے ورسیسٹر میں واقع میت خانے میں ان کی لاش رکھی گئی ہے اور اس میت خانے کا مظاہرین نے گھیراؤ کر رکھا ہے۔

اس میت خانے کو تیمرلان سارنائیف کی لاش کو دفنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ان کی لاش جمعرات کو طبی معائنے کے بعد میت خانے کے حوالے کی گئی۔

میت خانے کے ڈائریکٹر پیٹر سٹیفن کو تیمرلان کی موت کی جو سند دی گئی ہے اس کے مطابق ان کی موت کی وجہ گولیاں لگنے اور گہرے زخم بیان کی گئی ہے۔

پیٹر سٹیفن نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا’ہر کسی کو دفن ہونے کا حق حاصل ہے، یہ معنی نہیں رکھتا کہ یہ کون ہے، میں کسی کا انتخاب نہیں کر سکتا‘۔

اس سے پہلے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں قبر کی جگہ تلاش کر رہا ہوں، بہت سارے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ نہیں کیا جائے، اور وہ اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو پروقار طریقے سے دفنائے جانے کا حق حاصل ہے۔

Image caption میت خانے کے باہر مظاہرین جمع ہیں

اس میت خانے کے باہر لوگ جمع ہیں اور احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق تیمرلان سارنائیف کو جب پولیس نے انہیں گولی ماری تو اس وقت ان کے بھائی جوہر ان کو روندھتے ہوئے ایک گاڑی میں فرار ہو گئے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ میراتھن کو بم دھماکوں میں نشانہ بنائے جانے کا مقصد کیا تھا۔

تیمرلان سارنائیف کا تعلق روس کے علاقے چیچنیا کے ایک مسلمان گھرانے سے ہے اورگزشتہ ایک دہائی سے امریکہ میں رہائش پذیر تھے۔ بعد میں تیمرلان سارنائیف انتہا پسندی کی جانب راغب ہو گئے۔

تیمرلان سارنائیف کی بیوی رسل کیتھرین نے طبی معائنے کے دفتر سے ان کی لاش موصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے تیمرلان سارنائیف کے رشتہ داروں سے کہا تھا کہ وہ لاش پر دعویٰ اور ان کو دفنانے کی انتطامات کر سکتے ہیں۔

گزشتہ ماہ بوسٹن میراتھن میں ہونے والے دو دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور ایک سو اسی کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔

تیمرلان سارنائیف کے بھائی جوہر سارنائیف ہسپتال میں پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان پر بڑی تباہی پھیلانے والا ہتھیار استعمال کرکے لوگوں کو قتل کرنے کا فردِ جرم عائد کیا گیا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر انہیں سزائے موت ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں