نہیں لگتا شام میں فوج بھیجنی پڑے: اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ ابھی ایسے حالات نہیں دیکھ رہے کہ جس میں امریکی دستوں کو شام میں بھیجنے کی ضرورت پڑے۔

امریکی صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر اس بات کا واضح ثبوت ملا کہ شامی حکومت نے اپنے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استمعال کیا ہے تو پھر حالات تبدیل ہو سکتے ہیں تاہم اس بارے میں کوئی جلد بازی نہیں کی جائے گی۔

صدر اوباما نے جمعہ کو کوسٹا ریکا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زور دیا کہ وہ ابھی ایسے حالات نہیں دیکھ ر ہے کہ جس میں امریکی دستوں کو شام بھیجا جائے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں سے پہلے ہی مشورہ کر چکے ہیں اور وہ اب بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ابھی امریکی دستوں کو شام بھیجنے کا وقت نہیں آیا۔

صدر اوباما نے کہا کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ ماضی میں شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں یہ ہتھیار کب، کہاں اور کیسے استعمال ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اگر حوالے سے واضح ثبوت ملے تو پھر حالات تبدیل ہو سکتے ہیں کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ یہ ہتھیار حزب اللہ کے ہاتھ لگ جائیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا تھا امریکہ شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے سمیت کئی آپشنز پر غور کر رہا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

یہ پہلی بار ہے کہ امریکی انتظامیہ کے کسی اہلکار نے شامی باغیوں کو مسلح کرنے کے حوالے سے بیان دیا ہو۔

انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’ایک آپشن باغیوں کو مسلح کرنے کی ہے۔ آپ ایک زاویے کو دیکھتے ہیں اور اس پر سوچ بچار کرتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ یہ کریں گے یا نہیں کریں گے۔ ان آپشنز پر عالمی برادری کے ساتھ بات چیت کرنی ہو گی‘۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور قطر پہلے ہی شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مارچ سنہ 2011 سے شروع ہونے بغاوت میں اب تک 70,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق شام کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، اور حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی برادری میں اس ذخیرے کے تحفظ کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

شام کی حکومت نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

اسی بارے میں