’اسرائیل نے دہشتگردوں کی مدد سے حملے کیے‘

Image caption اس حملے نے مشرقِ وسطیٰ کو مزید خطرناک جگہ بنا دیا ہے: شامی وزیرِ اطلاعات

شام کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے شام میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے سے اس کے النصرہ فرنٹ کے شدت پسندوں سمیت’دہشت گردوں‘سے رابطوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔

شامی حکومت اپنے خلاف برسرِ پیکار باغیوں کو دہشت گرد کہتی ہے۔

شامی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اقوام متحدہ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ اسرائیل کے حملوں سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

اس سے قبل شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں جبلِ قاسیون نامی علاقے میں واقع ایک فوجی تحقیقی مرکز سمیت تین مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

یہی فوجی مرکز جنوری میں بھی اسرائیلی حملے کا نشانہ بنا تھا۔اور وہاں سے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنان کی شدت پسند تنظیم حزب اللہ کو بھیجے جانے والے ہتھیاروں کو نشانہ بنایا ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے سرکاری طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

شامی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جو تین فوجی مقامات نشانہ بنے ہیں ان میں جمرایہ میں واقع عسکری تحقیقی مرکز، دمشق کے علاقے الدماس میں پیراگلائیڈنگ کی ہوائی پٹی اور میسالون میں ایک مقام شامل ہے۔

یہ بیان شامی کابینہ کی ہنگامی اجلاس کے بعد ملک کے وزیرِ اطلاعات عمران الذہبی نے صحافیوں کو پڑھ کر سنایا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے سے متعدد شامی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر تباہی بھی ہوئی اور ’اس حملے سے اسرائیل، دہشتگرد گروہوں اور ان کے حامی النصرہ فرنٹ کے درمیان تعاون کی نشاندہی ہوتی ہے۔‘

شامی وزارتِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ’اب اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ اسرائیل شام میں جاری دہشتگردی کی کارروائیوں کو شہ دینے والا، اس سے فائدہ اٹھانے والا اور بعض اوقات خود ایسی کارروائیاں کرنے والا ملک ہے۔‘

شامی وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ اس حملے نے جہاں مشرقِ وسطیٰ کو مزید خطرناک جگہ بنا دیا ہے وہیں تمام ممکنات کے لیے راہ بھی ہموار کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اپنے عوام کا ہر ممکن طریقے سے تحفظ شام کا حق اور ذمہ داری ہے۔‘

ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق اسرائیلی حملے پر عرب ممالک کی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ مصر کے صدر نے کہا ہے یہ حملہ ’عالمی قوانین اور اصولوں کی خلاف وزری تھا اور اس سے حالات مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔‘

مصر کے ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شام میں جاری خونریزی اور شامی فوج کی جانب سے اپنے ہی عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کی شدید مخالفت کے ساتھ ساتھ مصر شام پر حملے، اس کی سالمیت کی خلاف ورزی اور اس کے اندرونی تنازع سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانے کی کوششوں کو مسترد کرتا ہے۔‘

عرب لیگ نے بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے حملوں کو فوری طور پر بند کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے ان دھماکوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی ایک ترجمان نے رابطہ کرنے پر خبر رساں ادارے رائٹرز سے کہا کہ ’ہم اس قسم کی خبروں پر تبصرہ نہیں کرتے۔‘

اس سے قبل اسرائیلی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی طیارے نے جمعہ کو شامی حدود میں گاڑیوں کے ایک ایسے قافلے کو نشانہ بنایا تھا جو میزائل لے جا رہا تھا۔

اسرائیلی اہلکار کے مطابق یہ ہتھیار مبینہ طور پر لبنان کی شدت پسند تنظیم حزب اللہ کو بھیجے جا رہے تھے۔

لبنان کے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ شام کے اصل دوست ابھی موجود ہیں جو اسے امریکہ، اسرائیل یا اسلامی شدت پسندوں کے ہتھے نہیں چڑھنے دیں گے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو نے گزشتہ ماہ بی بی سی کو دی گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل کو شام کے ہتھیاروں کے غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنے کا حق حاصل ہے۔

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں حکومتی افواج اور باغیوں کے مابین جھڑپیں کئی ماہ سے جاری ہیں اور تاحال کسی فریق کو برتری حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

واضح رہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مارچ سنہ 2011 سے شروع ہونے بغاوت میں اب تک 70,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں