بنگلہ دیش کا ’حفاظتِ اسلام‘ اتحاد

بنگلہ دیش میں حالیہ برسوں کے دوران ایک درجن یا اس سے زائد اسلامی جماعتوں پر مشتمل ’حفاظتِ اسلام‘ نامی اتحاد ایک چھتری تلے اکھٹا ہوا ہے۔

یہ اتحاد اگرچہ انتخابات کے ذریعے کامیابی حاصل نہیں کر سکا تاہم یہ اپنی طاقت کے ذریعے بنگلہ دیش کی روایتی سیکولر ثقافت اور سیاست کو اسلامی طریقوں کے ذریعے بدلنا چاہتا ہے۔

بنگلہ دیش کا حفاظتِ اسلام اتحاد 25,000 سے زائد مدارس یا مذہبی سکولوں پر مشتمل ہے۔

ان مدارس کے اساتذہ انہی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور حکومت کے خلاف کیے جانے والے مظاہروں اور ریلیوں میں شرکت کرنے کے لیے طلباء کو بھی یہاں سے لایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں حفاظتِ اسلام اتحاد فروری میں ایک نوجوان بلاگر رجب حیدر کی موت کے بعد منظرِ عام پر آیا۔

ہلاک ہونے والے بلاگر اور ان کے ساتھیوں نے ’شاہ باغ‘ مہم کا آغاز کیا اور سنہ 1971 کی جنگ کے دوران کیے جانے والے جنگی جرائم کے مرتکب سیاسی رہنما کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔

رجب حیدر اور ان جیسے دوسرے بلاگرز کو اسلام پسندوں نے بعد میں ’لادینی‘ قرار دیا اور بقول ان کے ان بلاگرز نے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف توہین آمیز تبصرے لکھے۔

ان اسلام پسندوں نے 6 اپریل کو بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ میں 5 لاکھ افراد اکھٹا کر کے حکمران جماعت عوامی لیگ سے ان بلاگرز کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے حفاظتِ اسلام کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے انھیں مذاکرات میں مصروف رکھنے کا فیصلہ کیا۔

بنگلہ دیش کی حکومت حفاظتِ اسلام اتحاد کو جماعتِ اسلامی سے کم جنگجو سمجھتی ہے جن کے متعدد رہنما سنہ 1971 کی جنگ کے دوران کیے جانے والے انسانیت کے خلاف مظالم جیسے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اگرچہ حفاظتِ اسلام اور جماعتِ اسلامی کے درمیان اختلافات ہیں تاہم حفاظتِ اسلام کی موجود مہم کو جماعتِ اسلامی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

اسی بارے میں