دو ایرانی باشندوں کو کینیا میں عمر قید

احمد محمد اور سید موسوی
Image caption احمد محمد اور سید موسوی پر دھماکہ خیز مواد رکھنے کا الزام ہے

ایران کے دو باشندوں کو دہشت گردی کے جرم میں کینیا کی ایک عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

ایرانی باشندے احمد محمد اور سید موسوی کو گزشتہ ہفتے دھماکہ خیز مواد رکھنے کا مرتکب پایا گیا تھا۔ ان پر یہ الزام ہے کہ وہ اس کے ذریعے کسی حملے کو انجام دینے والے تھے۔

جج کیاری واویرو کیاری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں یہ سوچ کر کانپ گیا کہ اس سے کس قدر نقصان ہو سکتا تھا۔‘

ایران کی حکومت نے کینیا کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے کی سازش سے انکار کیا ہے۔

اتوار کو کینیا میں ایران کے سفیر ملک حسین گیوزاد نے کہا ہے کہ ایران احمد محمد اور سید موسوی کے خاندان کو اس فیصلے کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل کرنے میں امداد فراہم کرے گا۔

کینیا سے شائع ہونے والے روزنامہ نیشن کو انھوں نے بتایا ’اگر وکلاء یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے خلاف شواہد ٹھوس نہیں تھے تو ایک سفارتکار کے طور پر ہم ‎سزا پانے والے افراد کے رشتہ داروں کو ہائی کورٹ میں اپیل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں ۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کا کینیا کے ساتھ دوستانہ تجارتی رشتہ ہے۔ یہ ایک عدالتی کارروائی تھی جس کا ہم احترام کرتے ہیں۔‘

عدالت نے کہا ہے کہ احمد محمد اور موسوی پر شبہہ کیا جا رہا تھا کہ ان کا اس نیٹ ورک سے تعلق ہے جو کینیا کے دارالحکومت نیروبی اور ساحلی شہر ممباسا میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

جج کیاری نے کہا کہ انھوں نے عمر قید کی سزا کا اس لیے فیصلہ کیا کہ ’ان لوگوں کی رحم کی اپیل‘ کے مقابلے ’گزشتہ بم دھماکوں کے متاثرین کی چیخ زیادہ تیز تھی‘۔

وکیل دفاع نے یہ الزام لگایا ہے کہ محمد احمد اور موسوی سے حراست کے دوران اسرائیلی اہلکاروں نے تفتیش کی تھی۔

بہر حال وکیل استغاثہ نے اس کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ محمد احمد اور موسوی کو جون 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر 15 کلو انتہائی طاقتور دھماکہ خیز مواد آر ڈی ایکس رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں