محمود عباس اور نیتن یاہو کا دورۂ چین

Image caption نتین یاہو اور محمود عباس کے درمین چین میں ملاقات متوقع نہیں ہے

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم بین یامین نیتن یاہو دونوں چین کے دورے پر ہیں جہاں وہ ملک کے علیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

محمود عباس نے جواتوار کو بیجنگ پہنچے ہیں کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں رکاوٹوں کے بارے میں وضاحت کریں گے۔

ادھر بین یامین نیتن یاہو شنگھائی کے دورے پر ہیں جہاں وہ تجارتی معاہدے دستخط کرنے اور ایران کے مسئلے پر بات چیت کرنے والے ہیں۔وہ بعد میں بیجنگ جائیں گے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان چین میں ملاقات متوقع نہیں ہے جبکہ چین کے وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اگر دورے پر آئے دونوں رہنما ملاقات کرنا چاہیں تو چین ان کی معاونت کرے گا لیکن دونوں رہنما بہ یک وقت ایک شہر میں نہیں ہونگے۔

محمود عباس پیر کو چینی صدرشی جن پنگ اور چینی وزیرِاعظم لی کیکیانگ سے ملاقات کریں گے۔

دورے کے آغاز سے پہلے چین کے سرکاری خبر رساں ادارے زنوا سے بات کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ وہ چینی حکام کو ’اسرائیل کے ساتھ بات چیت میں رکاوٹوں کے حوالے سے آگاہ کریں گے اور بیجنگ سے کہیں گے کہ وہ فلسطین کی اقتصادی حالات کو بہتر بنانے میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اسرائیل پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرے۔‘

زنوا نے محمود عباس کے حوالے سے بتایا کہ’یہ بہت اچھا ہے کہ بین یامین نیتن یاہو بھی چین کا دورہ کریں گے۔ یہ اچھا ہے کیونکہ چینی حکام ہم دونوں کو سنیں۔‘

بین یامین نیتن یاہو کا یہ دورہ گذشتہ چھ سال میں اسرائیلی رہنما کا چین کا پہلا دورہ ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ شنگھائی میں کاروباری افراد سے ملیں گے اور توقع ہے کہ وہ متعدد کاروباری سمجھوتوں پر دستخط کریں۔

اسرائیلی وزیرِاعظم کے ترجمان مارک ریگیو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’چین اور اسرائیل دونوں کو باہمی تعاوں سے بڑا فائدہ ہوگا اور یہی ہمارے مقصد ہے۔‘

توقع ہے کہ بین یامین نیتن یاہو ایران کے جوہری پروگررام کے مسئلے کو بھی اٹھائے۔ ایران کے متعلق اسرائیل سمیت کئی ممالک کے خیال ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنا رہا ہے جس کی ایران تردید کرتا ہے۔

بیجنگ ایران سے زیادہ تیل خریدنے والے ممالک میں سے ہے اور ایران کے خلاف یک طرفہ پابندیاں کے خلاف ہے۔

.

اسی بارے میں