لیبیا: قذافی دور کے اہلکاروں کی تعیناتی پر پابندی

Image caption لیبیا کے ایک مسلح گروہ نے ایک ہفتے سے وزارت خارجہ اور قانون کی عمارتوں کو گھیرے میں لے رکھاہے

لیبیا کی پارلیمنٹ نے ایک ایسا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت سابق حکمران معمر قذافی کی حکومت کا حصہ رہنے والا کوئی شخص بھی موجودہ حکومت میں کسی سیاسی عہدے پر فائز نہیں رہے سکے گا۔

لیبیا کے موجودہ وزیر اعظم علی زیدان اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد مغرایف بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

لیبیا کی جنرل نیشنل کانگریس نے یہ قانون وزارت خارجہ اور وزارت قانون کے دفاتر کو مسلح افراد کی جانب سے گھیرے میں لیے جانے کے ایک ہفتے بعد منظور کیا ہے۔

لیبیا کا ایک مسلح گروہ نےگزشتہ ایک ہفتے سے وزات خارجہ اور وزارت قانون کی عمارتوں کا گھیرا رکھا ہے۔ مسلح گروہ کا مطالبہ ہے کہ قذافی دور میں حکومت کا حصہ رہنے والے کسی شخص کو موجودہ حکومت میں عہدہ نہیں ملنا چاہیے۔

مسلح گروہ نےجو طیارہ شکن توپوں سے مسلح ہے، دھمکی دی ہے کہ وہ اس وقت تک وہاں سے نہیں ہٹیں گے جب تک ان کے مطالبات مان نہیں لیے جاتے۔

ہیومن رائٹس واچ کی نمائندہ سارہ لی وائٹسن نے کہا ہے کہ یہ قانون انتہائی مبہم ہے اور اس کے تحت ہر وہ شخص جو چار عشروں پر محیط قذافی دور میں اگر حکومت کا حصہ رہا ہے تو وہ موجودہ حکومت کا حصہ نہیں رہ سکے گا۔

لیبیا کی دو سو ممبران پر مشتمل پارلیمنٹ جنرل نیشنل کانگریس کے دو سو میں سے ایک سو چونسٹھ ممبران نے اس قانون کے حق میں ووٹ دیا جبکہ چار ممبران نے اس کی مخالفت کی۔

اس قانون کے تحت انیس سو انہتر سے لے 2011 تک حکومت کا حصہ رہنے والے ہر شخص موجودہ حکومت کا حصہ نہیں بن سکے گا۔

اسی بارے میں