’کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی دوٹوک شہادت نہیں ملی‘

Image caption کارلا ڈیل پونٹے نے کہا تھا کہ انھیں حیرت ہوئی ہے کہ حزبِ اختلاف نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں

اقوامِ متحدہ کے شام کے لیے تفتیشی کمیشن نے شام کے باغیوں کی طرف سے سیرن گیس استعمال کرنے کے شواہد کے بارے میں دیے گئے بیان سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کی ہے۔

کارلا ڈی پونٹے نے کہا تھا کہ متاثرین اور ڈاکٹروں کی طرف سے ملنے والی شہادتوں سے مضبوط شکوک پیدا ہوئِے ہیں تاہم ابھی وہ ناقابلِ تردید نہیں ہیں۔‘

تاہم کمیشن نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی وہ کسی ’دو ٹوک نتیجے‘ تک نہیں پہنچا۔

امریکہ نے بھی کہا ہے کہ اس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں کہ باغی جنگ جوؤں نے سیرن استعمال کی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں مغربی ممالک نے کہا ہے کہ ان کے اپنے تفتیش کاروں نے اس بات کے شواہد حاصل کیے ہیں کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

اتوار کے روز ایک اطالوی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی شام کے تنازعے کے بارے میں ایک آزادانہ تفتیشی ٹیم کی سربراہ کارلا ڈل پونٹے نے کہا تھا، ’ہمارے تفتیش کاروں نے ہمسایہ ممالک میں شام کے متاثرین، ڈاکٹروں اور فیلڈ ہسپتالوں میں انٹرویو کیے۔

’ان کی گزشتہ ہفتے کی رپورٹ جو میں نے بھی دیکھی ہے، اس میں متاثرین کے طریقۂ علاج سے اس کے ٹھوس شواہد ملتے ہیں تاہم سیرن گیس کے استعمال کے واضح شواہد ابھی نہیں ملے ہیں۔‘

سیرن بے رنگ اور بے بو گیس ہے جو نظامِ تنفس کو ناکارہ بنا دیتی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت اس گیس کے استعمال پر پابندی ہے اور اسے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔

پیر کے روز تفتیشی کمیشن نے ایک بیان میں کہا، ’کمیشن شام میں طرفین میں سے کسی کی جانب سے بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں حتمی نتائج تک نہیں پہنچا،اس لیے فی الوقت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ الزامات کے بارے میں مزید تبصرہ کر سکے۔‘

کمیشن تین جون کو انسانی حقوق کی کونسل کو اپنی تحقیقات سے آگاہ کرے گا۔

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار اموجن فولکس کے مطابق اقوامِ متحدہ کو ڈیل پونٹے کے بیان سے واضح طور پر حیرت ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کیمیائی اسلحے کا استعمال بے حد سنگین معاملہ ہے کیونکہ اس کے باعث بین الاقوامی برادری شام میں مداخلت کر سکتی ہے۔ اس لیے اقوامِ متحدہ کے سفارت کاروں کو معلوم ہے کہ جب تک شواہد بے حد مضبوط نہ ہوں اس وقت تک کسی فریق کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

ادھر واشنگٹن میں امریکی حکام نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’ہم سمجھتے ہیں کہ مسلح حزبِ اختلاف کے پاس ایسے ہتھیار نہیں ہیں، اس لیے ہم اپنے حقائق کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔ تاہم ہمارا ابتدائی تاثر یہ ہے کہ ان کے پاس اس قسم کا اسلحہ نہیں ہے۔‘

گذشتہ ہفتے امریکی اور برطانوی حکومتوں نے کہا تھا کہ شام کی سرکاری فوج نے بشمول سیرن کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

اسی بارے میں