برلسکونی کی ٹیکس میں دھوکا دہی کی سزا برقرار

Image caption برلسکونی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی نوعیت سیاسی ہے

ایک اطالوی عدالت نے سابق وزیرِاعظم سلویو برلسکونی کی ٹیکس میں دھوکا دہی کے جرم میں دی گئی سزا برقرار رکھی ہے۔

اس سے قبل ایک اپیل کورٹ نے سزا برقرار رکھتے ہوئے تجویز کیا تھا کہ انھیں چار سال کے لیے جیل بھیج دیا جائے۔

برلسکونی نے 2012 میں ایک زیریں عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کے خلاف اپیل کی تھی، جس میں انھیں میڈیا کے کاروبار میں ٹیکس فراڈ کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

برلسکونی پر پانچ سال کے لیے انتخابات لڑنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

سابق وزیرِاعظم اور ان کے ساتھیوں کو اکتوبر 2012 میں اپنی کمپنی میڈیاسیٹ کی طرف سے ٹیکس بچانے کی خاطر تقسیم کے حقوق کی قیمت بڑھا کر پیش کرنے کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

میلان کی ایک عدالت نے پہلے چار سال قید کی سزا سنائی تاہم بعد میں اسے کم کر کے ایک سال کر دیا۔

برلسکونی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی نوعیت سیاسی ہے۔ تاہم فیصلے کو رد کرنے کی بجائے اپیل کورٹ نے اصل مدتِ قید بحال کر دی۔

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کہتے ہیں کہ توقع ہے کہ برلسکونی اب مزید اعلیٰ عدالت میں اپیل کریں گے۔

اسی بارے میں