افغانستان امریکہ کو 9 فوجی اڈے دینے پر تیار

Image caption امریکہ مالی امداد کی گارنٹی دے ہم اڈے دینے پر تیار ہیں: صدر کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ افغانستان کی سکیورٹی اور لمبے عرصے تک مالی امداد کی یقین دہانی کرائے تو وہ 2014 کے بعد امریکہ کو نو فوجی اڈے قائم رکھنے کی اجازت دینے پر تیار ہیں۔

کابل یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے صدر نے کہا کہ افغانستان امریکہ کے ساتھ پارٹنرشپ کے معاہدے پر دستخط کرنے کو تیار ہے بشرطیکہ وہ افغانستان کی سکیورٹی، فوجی اداروں کی مدد اور لمبے عرصے تک مالی امداد کی یقین دہانی کراے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ افغانستان کے صدر نے 2014 میں نیٹو افواج کی افغانستان سے روانگی کے بعد امریکی اڈوں کے حوالے سے کچھ کہا ہے۔

افغان صدر نے کہا ہے کہ امریکہ 2014 میں فوجوں کے انخلاء کے بعد بھی کابل، بگرام، مزارِ شریف، جلال آباد، گردیز، قندھار، ہلمند، شنداد اور ہرات میں اپنے اڈے قائم رکھنا چاہتا ہے۔

’ہم ان کو اڈے دینے پر رضامند ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی افغانستان کے لیے مفید ہے۔ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ اچھے تعلقات افغانستان کے لیے فائدہ مند ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ افغانستان اسی صورت میں امریکہ کو افغانستان میں اڈے دینے کی اجازت دے گا جب امریکہ افغانستان کی سکیورٹی اور معاشی مدد کی ضمانت دے۔

صدر کرزئی نے کہا کہ افغانستان چاہتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرے اور لمبے عرصے تک مالی مدد کی یقین دہانی کرائے۔

ابھی تک کسی امریکی اہلکار نے افغانستان کے صدر کے اس بیان پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔