ڈھاکہ:انہدام کے 17 روز بعد خاتون زندہ برآمد

Image caption ریشماں نامی یہ خاتون آٹھ منزلہ عمارت کے تہہ خانے میں پھنسی ہوئی تھیں

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے سوار میں سترہ روز قبل منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے سے ایک خاتون کو زندہ نکالا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کی فوج نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔

فوجی حکام کے مطابق اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب 1000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

ڈھاکہ کے مقامی اخبار ڈیلی سٹار کا کہنا ہے کہ ریشماں نامی یہ خاتون آٹھ منزلہ عمارت کے تہہ خانے میں پھنسی ہوئی تھیں۔

اخبار کے مطابق انھیں کوئی شدید چوٹ نہیں آئی تھیں اور امدادی کارکنوں نے ملبہ اٹھانے کے عمل کے دوران ان کی چیخیں سنی تھیں۔

ڈھاکہ کی فائر بریگیڈ کے سربراہ احمد علی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ خاتون چھت کی ایک بیم اور ایک ستون کے درمیان پھنسی ہوئی تھیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ شاید اُن کے پاس پانی تھا یا پھر انہوں نے وہ پانی پی لیا جو ہم نے عمارت کے اندر پمپ کیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ 1000 لاشیں نکالے جانے کے باوجود بھی ابھی ہلاکتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

منہدم ہونے والی عمارت کے آرکیٹیکٹ کا کہنا ہے کہ یہ عمارت فیکٹری کے لیے تعمیر نہیں کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اس حادثے کے بعد حکام نے ملک میں ملبوسات تیار کرنے والے اٹھارہ کارخانوں کو حفاظتی بنیادوں پر بند کردیا تھا۔

بند کیے جانے والے کارخانوں میں سے دو چٹاگانگ اور سولہ ڈھاکہ میں واقع ہیں جہاں چوبیس اپریل کو عمارت گرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

اسی بارے میں