حسنی مبارک کی اپیل پر مقدمے کی سماعت شروع

مصر کے معزول صدر حسنی مبارک کے خلاف مقدمے کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے۔

مصر کے سابق صدر پر دو ہزار گیارہ میں ملک میں ان کے خلاف ہونے والی بغاوت کے دوران مظاہرین کے قتل کی سازش اور بدعنوانی کے الزامات ہیں۔

حسنی مبارک پر جون دو ہزار بارہ میں فردِ جرم عائد کر دی گئی تھی تاہم مقدمے کا دوبارہ آغاز ان کی اپیل کے بعد ہوا ہے۔

اس مقدمے کی سماعت دارالحکومت قاہرہ کے سرحدی علاقے میں ایک پولیس اکیڈمی میں ہوئی۔

مصر کے سرکاری ٹیلی وژن پر مقدمے کی کارروائی براہ راست دکھائی گئی۔ حسنی مبارک سٹریچر پر عدالت میں پیش ہوئے۔

بی بی سی کی نامہ نگار شائمہ خلیل کے مطابق مقدمے کا آغاز تناؤ سے بھرپور ماحول میں ہوا اور کمرۂ عدالت میں لوگ کافی جذباتی تھے حتیٰ کہ جج کو وکلاء سے کہنا پڑا کہ ’چِلّانا بند کریں‘۔

سرکاری وکیل نے حسنی مبارک کے خلاف الزامات کی فہرست پڑھ کر سنائی۔

حسنی مبارک اور ان کے ساتھ مقدموں میں شریک ملزمان ان الزامات کو رد کرتے آئے ہیں۔

اس سے قبل اپریل میں قاہرہ کی ایک عدالت میں اس مقدمے کی سماعت شروع ہوتے ہی بنچ کے سربراہ جج نے اس کیس سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جسٹس مصطفٰی حسن عبداللہ نے کہا تھا کہ وہ اس مقدمے کو اپیل کورٹ کی طرف بھیج رہے ہیں کیونکہ اس کیس پر نظرثانی کرنے میں انہیں اچھا محسوس نہیں ہو رہا۔

حسنی مبارک کے سابق وزیرِ داخلہ حبیب العدلی اور ان کے چھ ساتھیوں پر بھی دوبارہ مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ ان پر بھی دو ہزار گیارہ میں مظاہرین کو ہلاک کرنے اور بدعنوانی کے الزامات ہیں۔

دو ہزار گیارہ کو کیے جانے والے کریک ڈاؤن میں آٹھ سو پچاس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حسنی مبارک پر چلنے والے پہلے مقدمے کی سماعت دس ماہ تک ہوتی رہی اور وہ اس میں بھی سٹریچر پر پیش ہوتے تھے۔

وکیلِ استغاثہ کی جانب سے یہ کہے جانے کے بعد کہ ان کی صحت تشویش ناک نہیں ہے حسنی مبارک کو گذشتہ ماہ فوجی ہسپتال سے جیل منتقل کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں