’ترکی میں دھماکوں سے شام کا تعلق نہیں‘

Image caption سرحدی علاقے ریحانلی میں دو کار بم دھماکوں کے بعد ترکی نے خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا

شام کا کہنا ہے کہ ترکی کے سرحدی قصبے میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں اُن کا کوئی ہاتھ نہیں۔ ان دھماکوں میں چھیالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

وزیرِ اطلاعات عُمران الزوبی نے اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اُن کے ملک نے نہ تو ایسا کوئی اقدام اٹھایا ہے اور نہ ہی اٹھا سکتے ہیں کیونکہ یہ اُن کے عقائد کے خلاف ہے۔‘

ترک پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ریحانلی کے قصبے میں ہونے والے اِن دھماکوں کے حوالے سے نو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ترک حکومت کا کہنا ہے کہ انھیں ان حملوں میں شامی انٹیلجنس کے ملوث ہونے کے سلسلے میں شکوک ہیں۔

حُکام کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں چھیالیس افراد کے ہلاک ہونے کے علاوہ پچاس لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں جو ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

گرفتار کیے جانے والے تمام افراد ترک شہری ہیں۔

ترکی نیٹو کا رکن ہے اور شام میں حکومت مخالف گروہوں کا اہم حامی ہے۔ شام کی خانہ جنگی میں ترکی نے صدر بشارالاسد کی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔

امریکہ اور نیٹو نے ان دھماکوں کی مذمت کی ہے اور ترکی کے لیے حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات میں سینکڑوں افراد شرکت کر رہے ہیں۔ ریحانلی کےقصبے میں شام سے آنے والے کئی پناہ گزین مقیم ہیں۔

وزیرِ اطلاعات عُمران الزوبی کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی بے بنیاد الزامات لگانے کا حق نہیں اور ہم ریحانلی میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اِن حملوں کے بارے میں ترک وزیرِ اعظم کو پوچھا جانا چاہیے۔ وہ اور اُن کی جماعت اِن حملوں کی براہِ راست ذمہ دار ہیں۔‘

بی بی سی کے جم موئر کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے یہ ایک شدید ردِ عمل تھا جس میں دھماکوں کی ذمہ داری ترکی پر ڈالی گئی۔ شامی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترک حکومت نے شام میں مخالفین کے لیے ہتھیاروں، دھماکہ خیز مواد، گاڑیوں اور پیسے کو سرحد پار جانے دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے سرحدی علاقوں کو بین الاقوامی دہشتگردی کے مراکز میں تبدیل کر دیا ہے اور ترک حکومت کو اس کی سیاسی ذمہ داری لینا ہوگی۔

ادھر ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں صدر الاسد کے حامی جنگجو ان دھماکوں کے پیچھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شامی پناہ گزینوں کا ان دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ شامی حکومت کا ہے۔

بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ اس حملے سے ترک حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔

ترک حکومت کی شام کے سلسلے میں ابھی پالیسی حکومت مخالفین کی حمایت کرنا مگر براہِ راست ملوث نہ ہونا رہی ہے۔ ترک وزیرِاعظم اس ہفتے امریکی صدر براک اوباما سے بھی ملاقات کریں گے جہاں شام کے مسئلے پر بات چیت کی جائے گی۔

اسی بارے میں