امریکہ، تیل درآمد کی بجائے برآمد کا امکان

شیل تیل کیلیفورنیا
Image caption شمالی امریکہ میں شیل تیل کی پیداوار سے عالمی سطح پر قوت کے توازن میں تبدیلی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے

امریکی شیل تیل کے ذخیرے میں امید سے زیادہ اضافے سے قوت کے عالمی توازن میں تبدیلی رونما ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اس سے موجودہ اور نئے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان طاقت کے توازن میں فرق آئے گا۔

عالمی توانائی کی تنظیم آئی ای اے کے مطابق آنے والے پانچ سالوں میں امریکہ اس نئے تیل کا ایک تہائی عالمی سطح پر فراہم کر رہا ہوگا۔

اس کے ساتھ ہی امریکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکل کر تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔

اس کے نتیجے میں کہا جا رہا ہے کہ مشرق وسطی کے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے تیل کی مانگ میں کمی آئے گی۔

آئی ای اے کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ماریا وان ڈر ہون نے کہا: ’شمالی امریکہ نے تیل کی فراہمی کے ذریعہ ایک ہیجان پیدا کردیا ہے جسے پوری دنیا میں محسوس کیا جا رہا ہے۔‘

آئی ای اے کی دو سال کی رپورٹ کے مطابق امریکی پیداوار میں آنے والے اضافے سے اس صنعت کا خدوخال بدل جائے گا۔

واضح رہے کہ آئی ای اے نے مانگ اور فراہمی کے رجحانات پر قریبی نظر رکھتے ہوئے آئندہ پانچ سال کے لیے اس رپورٹ میں پیشین گوئی کی ہے۔

آئی ای اے نے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ گیس کی پیداوار کے شعبے میں امریکہ 2015 تک روس سے آگے نکل جائے گا اور وہ دنیا کا سب سے بڑا گیس پیدا کرنے والا ملک ہوگا جبکہ 2035 تک یہ توانائی کی اپنی ضرورتوں کے تئیں ’خود کفیل‘ ہو جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ میں تیل کی پیداوار میں اضافے کا مطلب تیل پیدا کرنے والے روایتی مشرق وسطی کے ممالک پر انحصار کا جلد خاتمہ ہے۔

واضح رہے کہ مشرق وسطی کے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک بنا رکھی ہے۔

آئی ای اے کے مطابق سنہ 2012 سے 2018 کے درمیان امریکی تیل کی پیداوار میں 9۔3 ملین بیرل سالانہ اضافہ ہوگا جو کہ مجوزہ اضافے کا دو تہائی ہوگا۔

دریں اثنا یہ کہا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی مانگ میں آٹھ فی صد اضافہ ہوگا جس کو زیادہ تر غیر اوپیک ممالک سے پورا کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اوپیک ممالک سے بھی تیل کی پیداوار میں اس مدت کے دوران اضافہ ہوگا لیکن سست رفتاری کے ساتھ۔

آج دنیا کا 35 فی صد تیل اوپیک ممالک پیدا کر رہے ہیں۔ ابھی روزانہ یہ ممالک 75۔1 ملین بیرل پیدا کرتے ہیں اور 2018 تک یہ ممالک 75۔36 ملین بیرل روازانہ پیدا کریں گے جو کہ آئی ای اے کے 2012 کے اندازے سے روزانہ 750،000 بیرل کم ہے۔

آئی ای اے نے کہا ہے کہ ’شمالی اور سب سہارا افریقہ میں بڑھتے عدم تحفظ‘ اور عرب دنیا میں تبدیلیوں کے نتیجے میں تیل کی پیداوار میں یہ سست روی آئی ہے۔

اسی بارے میں