بچوں کا جنسی استحصال، سات افراد قصور وار

Image caption ملزمان کو چھبیس جون کو سزا سنائی جائے گی

برطانیہ کی اوکسفورڈ شائر کاؤنٹی کونسل کی چیف ایگزیکٹو کا اصرار ہے کہ وہ اوکسفورڈ کے علاقے میں نوجوان لڑکیوں سے جنسی بدسلوکی کے واقعات کے بعد مستعفی نہیں ہوں گی۔

تاہم چیف ایگزیکٹو جونا سائمنز نے تسلیم کیا کہ کونسل اور دیگر’ کو جو کچھ ہوا اس کی بڑی ذمہ داری لینا چاہیے‘۔

منگل کو بچوں سے جنسی بدسلوکی کرنے والے گینگ کے سات افراد کو گیارہ سال سے پندرہ سال تک کی نوجوان لڑکیوں سے ریپ اور فروخت کرنے کے الزام میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔

یہ جرائم آٹھ سال پر محیط ہیں، سماجی خدمات کے ادارے اور پولیس نے ان واقعات پر جلدی کارروائی نہ کرنے پر معافی مانگی ہے۔

جونا سائمنز اوکسفورڈ کونسل کی سال دو ہزار پانچ سے چیف ایگزیکٹو ہیں اور انہوں نے اپنی پوزیشن کے حوالے سے سخت سوالات اٹھائے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس کیس کا ایک آزادانہ جائزہ لینا چاہیے جو اس کی زد میں آنے والی والی تمام ایجنسیوں کے خلاف کارروائی کا معاملہ دیکھے‘۔

’میری اندرونی کیفیت یہ ہے کہ مجھے مستعفی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ میرا عزم ہے کہ اس معاملے میں کارروائی کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں۔یہ گمراہ جرائم اور بہت پیچیدہ ہیں‘۔

جونا سائمنز کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب اولڈ بیلے جیوری نے ان چھ لڑکیوں کو سنا جنہیں منشیات دے کر جنسی استحصال کا شکار بنایا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ متاثرہ لڑکیوں کو پہلے منشیات اور شراب پلائی گئی اور اس کے بعد انہیں جنسی فعل کرنے پر مجبور کیا گیا اور ان میں سے بعض پر تشدد، جھلسایا اور دھمکیاں دی گئیں۔

اس کیس میں نو افراد نے سال دو ہزار چار سے سال دو ہزار گیارہ کے عرصے میں جنسی زیادتی، عصمت فروشی کے لیے بچے مہیا کرنے، اور فروخت کرنے کے الزامات سے انکار کیا جبکہ دو نے تمام الزامات کو قبول کر لیا۔

ان میں قمر جمیل کو ریپ کے پانچ الزامات، ریپ کی سازش تیار کرنے کے دو الزامات اور بچوں کی عصمت فروشی میں معاونت کرنے کے ایک الزام میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

اختر ڈوگر کو بھی ریپ کے پانچ الزامات، ریپ کی سازش تیار کرنے کے دو الزامات، بچوں کی عصمت فروشی کے دو الزامات اور فروخت کرنے کے ایک الزام میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

اسی طرح سے انجم ڈوگر ریپ کے چار الزامات، بچوں کی عصمت فروشی کے دو، ریپ کی سازش کے دو اور فروخت کرنے کے ایک الزام میں قصور وار ٹھہرائے گئے ہیں۔

اسد حسین ریپ کے الزام میں قصور وار نہیں ٹھہرائے گئے لیکن بچے سے سے جنسی فعل کرنے کے دو الزامات میں قصور وار پائے گئے ہیں۔

محمد کرار کو ریپ کے سازش کے دو الزامات، بچے سے ریپ کے تین، اسقاط حمل کے لیے ایک آلے کا استعمال، فروخت کرنے کے دو الزامات، ایک بچے سے جنسی بدسلوکی، بچے کی عصمت فروشی کے ایک، ریپ کے ایک اور اعلیٰ قسم کی منشیات فراہم کرنے کے ایک الزام میں قصور وار ٹھہرایا گیا۔

اس کے علاوہ باسم کرار ریپ کے دو الزامات، بچے سے ریپ کی ایک سازش، ایک بچے سے ریپ، بچے کی عصمت فروشی کے ایک، فروخت کرنے کے ایک اور ریپ کی سازش کے ایک الزام میں قصوروار ٹھہرایا گیا۔

ذیشان احمد کو بچے سے سیکس کرنے دو الزامات میں قصور وار ٹھہرایا گیا۔

جج نے قصور وار ٹھہرائے جانے والے افراد سے کہا کہ’آپ سنگین جرائم میں قصور وار قرار پائے ہیں اور ایک طویل قید ناگزیر ہے‘۔

اس کیس کے ملزمان کو چھبیس جون کو سزا سنائی جائے گی۔

جنسی ہراس کے یہ واقعات آوکسفورڈ میں پیش آیے تاہم ان میں سے کچھ متاثرین کو ملک کے دوسرے حصوں میں لیجایا گیا اور اس گروہ سے منسلک افراد کو پیش کیا گیا۔خیال کیا جا رہا ہے کے پکڑے جانے والے گینگ کا ایک رکن لاپتہ ہے۔

اسی بارے میں