3 لاکھ آبادی، بہت اسلحہ مگر جرائم نہیں

یورپ میں واقع ملک آئس لینڈ میں اسلحہ کی کمی نہیں مگر اس کے باوجود اس ملک میں جرائم کی سطح دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔ ایسا کیوں اور کیسے ہے؟ اس بات کا جائزہ لیا ایک امریکی قانون کے طالب علم اینڈریو کلارک نے۔

وہ کہتے ہیں کہ میں امریکی ریاست نیو انگلینڈ میں پیدا ہوا تھا میرے ذہن میں آئس لینڈ کی برفانی تھپیڑوں کا ایک عجیب سا تصور تھا۔ ایسی سردی جو ٹھٹھرا دینے والی ہو اور اس کے ساتھ شدید سرد ہوا جو تیز دھار برف کے کاٹ دینے والے ٹکڑے بنا دیتی ہو۔

جب میں اپنا سامان رِک یاوِک کی برفانی راہداریوں پر گھسیٹ کر جا رہا تھا تو ایک بزرگ شخص نے اپنی جیپ روکی اور مجھ سے پوچھا آپ گاڑی کے اندر بیٹھنا چاہیں گے؟

میرے لیے بہت عجیب سی بات تھی اور میں نے سوچا میں کیوں کسی اجنبی کی گاڑی میں بیٹھوں۔

اب تک مجھے اجنبیوں کی گاڑیوں میں نہ بیٹھنے کے حوالے جو بھی سمجھایا گیا تھا میں اسے پسِ پشت ڈالتے ہوئے گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھ گیا کیونکہ مجھے پتا تھا کہ میرے ساتھ کچھ غلط نہیں ہو گا۔

آخر کو میں اس ملک میں صرف ایک ہفتے کے لیے آیا تھا اس بات کا مشاہدہ اور مطالعے کرنے کے لیے کہ آئس لینڈ میں جرائم کیوں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ میرا اس ملک میں چھ ماہ کے عرصے میں دوسرا دورہ تھا۔

Image caption آئس لینڈ میں لوگ اپنے سائیکل کو بغیر تالہ لگائے سڑک کے کنارے چھوڑ دیتے ہیں

میں نے گزشتہ تین سال بوسٹن کے سفوک یونیورسٹی کے لا سکول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے گزارے تھے اور میں وہاں بین القوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔

رِک یا وِک میں اگست دو ہزار بارہ میں آنے سے پہلے میرے لا سکول کا تخصص کے مقالے کا عنوان طے پا چکا تھا اور وہ تھا ’سائبر لڑائیاں اور جنیوا کنوینشن‘۔

مگر آئس لینڈ میں ایک ہفتہ گزارنے سے میرا ذہن تبدیل ہو گیا اور مجھے وہ سب کچھ دیکھ کر بہت خوشگوار حیرت ہوئی جو اس ملک میں میرے لیے نیا تھا۔

پر تشدد جرائم تو بالکل ہی نہیں تھے۔ لوگ اپنی حفاظت کے حوالے بہت ہی لاپرواہ تھے حتیٰ کے اپنے بچوں کے تحفظ کے بارے میں کہ وہ اپنے ننھے منے بچوں کو باہر بغیر نگرانی کے چھوڑ دیتے تھے۔

میں نے ناروے، سویڈن اور ڈنمارک جیسے ممالک دیکھے جہاں جرائم اس ملک کی نسبت سے بہت زیادہ ہیں۔

اس سب نے مجھے اپنا خیال تبدیل کرنے پر مجبور کیا اور امریکہ واپسی پر میں نے اپنے مقالے کا عنوان اور موضوع تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آئس لینڈ جرائم کی کمی کے حوالے سے کیا صحیح کر رہا ہے۔

ویسے حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کو کوئی معین جواب نہیں ہے کیونکہ آئس لینڈ جیسے ملک میں پر تشدد جرائم کی سطح دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔

2011 کے عالمی قتل کے واقعات کے جائزے کے مطابق جو اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم کے دفتر نے شائع کیا تھا اس ملک میں 1999 سے 2009 کے درمیان قتل کے واقعات ایک ایک لاکھ افراد کی آبادی میں اعشاریہ آٹھ سے زیادہ کسی سال میں نہیں رہے۔

دوسی جانب امریکہ میں انہیں سالوں کے دوران قتل کے واقعات ایک لاکھ کی آبادی کے تناسب سے پانچ سے پانچ اعشاریہ آٹھ تک رہے ہیں۔

پروفیسروں، حکومتی اہلکاروں، قانون دانوں، وکلا، صحافیوں اور شہریوں سے ملنے کے بعد میں نے ایک چارٹ بنایا مگر میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ یہ جاننا ناممکن ہے کہ کون سے عوامل کس حد تک اثرانداز ہوتے ہیں۔

سب سے پہلے اور یقیناً سب سے زیادہ اہم طور پر آئس لینڈ میں امیر، متوسط اور غریب طبقے کے درمیان کوئی بھی فرق نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے مختلف طبقات میں پایا جانے والا تناؤ تو سرے سے ہے ہی نہیں جو باقی دنیا میں تقریباً ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔

آئس لینڈ کی طبقاتی تقسیم کے بارے میں یونیورسٹی آف میزوری کے ایک ماسٹرز کے طالب علم کی تحقیق میں ایک اعشاریہ ایک فیصد افراد نے اپنے آپ کو اعلیٰ یا امیر طبقے کا بتایا جبکہ ایک اعشاریہ پانچ فیصد افراد نے اپنے آپ کو غریب طبقے کا بتایا۔

Image caption اکثر والدین اپنے بچوں کو بغیر نگرانی کے باہر چپوڑ دیتے ہیں اس فکر سے آزاد کہ انہیں کوئی نقصان پہنچائے گا

ستانوے فیصد افراد نے اپنے آپ کو متوسط طبقے کے مختلف حصوں سے وابستہ کیا۔

آئس لینڈ کی پارلیمان ’آلتھنگ‘ کے ایک دورے کے دوران میری ملاقات بیورگون سگوردھسن سے ہوئی جو سوشل ڈیموکریٹ اتحاد کی جانب سے پارلیمانی گروپ کے سابق چیئر مین تھے۔ ان کی نظر میں اور تقریباً تمام لوگوں کی نظر میں جن سے میری ملاقات آئس لینڈ میں ہوئی مساوات اس ملک میں جرائم کی کمی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

سگوردھسن کہتے ہیں کہ ’یہاں آپ کسے بڑے امیر کاروباری شخص کے بچوں کو باقی دوسروں کے بچوں کی طرح سکول جاتے ہوئے دیکھیں گے اور یہ کہ ملک کا سماجی بہبود اور تعلیمی نصاب عقیدۂ مساوات کی ترویج کرتا ہے۔‘

آئس لینڈ میں جب کبھی جرائم ہوتے ہیں ان میں آتشیں یا عام اسلحے کا استعمال بہت کم ہوتا ہے اگرچہ اس ملک کے شہریوں کے پاس بہت سی بندوقیں ہیں۔

گن پالیسی ڈاٹ کام جو کہ ایک تنظیم ہے کا اندازہ ہے کہ آئس لینڈ میں نوے ہزار کے قریب بندوقیں ہیں جس کی آبادی تین لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

یہ ملک دنیا میں بندوقوں کی ملکیت کے اعتبار سے پندرہویں درجے پر ہے اگرچہ بندوق کا حصول اس ملک میں کوئی آسان کام نہیں ہے۔ لائسنس حاصل کرنے کے لیے طبی معائنے اور ایک تحریری امتحان سے گزرنا ضروری ہے۔

پولیس بھی غیر مسلح ہوتی ہے اور ایسے پولیس افسران جن کو آتشیں اسلحہ لے کر چلنے کی اجازت ہوتی ہے وہ ایک خاص فوج کا حصہ ہوتے ہیں جنہیں ’وائی کنگ سکواڈ‘ کہا جاتا ہے اور انہیں شاذ و نادر ہی کارروائی کے لیے بلایا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں آئس لینڈ میں منشیات بہت ہی کم ہیں۔

Image caption تین لاکھ کے لگ بھگ آبادی والے آئس لینڈ میں نوے ہزار کے قریب مختلف اقسام کا اسلحہ ہے مگر پھر بھی جرائم نہ ہونے کے برابر

اقوام متحدہ کے انسدادِ منشیات کے ادارے کی 2012 کی رپورٹ کے مطابق آئس لینڈ میں پندرہ سے چونسٹھ سال کی عمر کے افراد کے درمیان کوکین استعمال کرنے کا رجحان اعشاریہ نو فیصد ہے، ایکسٹیسی اعشاریہ پانچ فیصد اور ایمفیٹامائنز اعشاریہ سات فیصد ہے۔

آئس لینڈ میں ایک اہم روایت یہ ہے کہ جرائم کو ہونے سے پہلے روکا جاتا ہے اور مسائل کو بنیادی سطح پر ہی حل کر لیا جاتا ہے۔

ان دنوں پولیس منظم جرائم کے گروہوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے اور ملک کی پارلیمان ایسے قوانین پر غور کر رہی ہے جس سے ان گروہوں کو ختم کرنے میں مدد مل سکے۔

1973 میں جب منشیات ایک بڑا مسئلہ تھا تو آئس لینڈ کی پارلیمان نے اس سے نمٹنے کے لیے ایک مخصوص انسدادِ منشیات کی پولیس اور عدالت بنائی۔

اس عدالت کے پہلے دس سالوں میں نوے فیصد کیسوں میں مجرموں پر صرف جرمانہ عائد کیا گیا۔

آئس لینڈ کے معاشرے میں ایک اہم تصوراتی اور حقیقی امتزاج پایا جاتا ہے جس پر دوسرے ممالک کو نظر ڈالنی چاہیے اور اس میں ان ممالک کے جرائم کے مسائل سے نمٹنے کے حوالے سے اہم سبق بھی موجود ہیں۔

اور اُس دن جب میں اُن اجنبی بزرگ کی جیپ میں بیٹھا انہوں نے مسکرا کر مجھ سے پوچھا کہ کہیں مجھے سامان کو اٹھانے میں مدد کی تو ضرورت نہیں۔

اگرچہ مجھے اُن بزرگ کے بارے میں زرہ برابر بھی معلومات نہیں تھیں میں نے اپنے آپ کو ان کی جیپ میں محفوظ محسوس کیا۔

اسی بارے میں