کابل: فوجی قافلے پر خودکش حملہ، 15 ہلاک

Image caption رواں ماہ افغانستان میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اتحادی افواج کے 15 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں غیر ملکی افواج کے قافلے کے قریب خودکش کار بم دھماکے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

افغانستان میں نیٹو کی زیرِ قیادت بین الاقوامی سکیورٹی فورس (ایساف) نے کہا ہے کہ مرنے والوں میں نیٹو کے دو سپاہی اور چار سویلین کنٹریکٹر بھی شامل ہیں۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک اسلامی شدت پسند تنظیم حزب اسلامی نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں امریکی کاروان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

کابل پولیس کے سربراہ جنرل سالنگی نے کہا کہ دھماکا خیز مواد سے بھری ایک ٹویوٹا کرولا کار کو غیر ملکی فوجی گاڑیوں کے قریب دھماکے سے اڑایا گیا۔

اس طاقتور دھماکے کے بعد کابل کے صنعتی علاقے میں دھواں فضا میں اٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے کئی گھر تباہ ہو گئے، اور آواز دور تک سنائی دی۔ پولیس نے دھماکے کے بعد علاقے کوسیل کر دیا ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کہتے ہیں کہ دھماکے کے بعد کی ہولناک تصاویر نشر کی گئی ہیں، جس میں بری طرح جھلسے ہوئے جسم دکھائے گئے ہیں۔

مارچ کے بعد اب تک ہونے والے یہ سب سے بڑا دھماکا ہے۔

حزبِ اسلامی کے ترجمان ہارون زرغون نے اے پی کو فون کر کے بتایا کہ تنظیم نے امریکی مشیروں کو نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حملہ 2014 میں امریکہ اور نیٹو کے افغانستان سے انخلا کے بعد بھی بعض مستقل چوکیاں برقرار رکھنے کی کوششوں کے خلاف کیا گیا ہے۔

مارچ میں امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل کے دورۂ افغانسان کے موقع پر افغان وزارتِ دفاع کے باہر ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور بیس زخمی ہو گئے تھے۔

یہ دھماکا امریکی وزیرِ دفاع کے افغانستان پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہوا تھا لیکن وہ دھماکے کے وقت کسی اور جگہ پر بریفنگ میں موجود تھے۔

طالبان کے شدت پسندوں نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ رواں ماہ افغانستان میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اتحادی افواج کے 15 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں