شام :کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ’شواہد‘

Image caption عینی شاہدین کے مطابق سراقب میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دو ایسے آلات پھینکےگئے جن میں زہریلی گیس بھری ہوئی تھی

شام میں گزشتہ ماہ ہونے والے حملوں میں بی بی سی کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔

حلب کے علاقے سراقب میں عینی شاہدین نے بی بی سی کے نامہ نگار ایئن پنیل کو بتایا کہ سرکاری ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دو ایسے آلات پھینکے گئے جن میں زہریلی گیس بھری ہوئی تھی۔

’کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی دو ٹوک شہادت نہیں ملی‘

خیال رہے کہ رواں سال اپریل میں حکومتی فورسز نے سراقب پر شدید بمباری کی تھی۔

مقامی ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بی بی سی کوبتایا کہ اُن کے پاس آٹھ ایسے مریض داخل ہوئے ہیں جنہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔بعض کو متلی کی شکایت تھی جبکہ کچھ کی آنکھ کی پتلی ساکت ہو گئی تھی۔ہسپتال میں زیر علاج مریضوں میں سے ایک خاتون مریم خاتب بعد میں انتقال کرگئی۔

مرنے والی خاتون کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اُن میں آرگینوفاسفیٹ نامی زہر کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ جس کے بعد خاتون کے نمونے مزید معائنے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔

بی بی سی کو بہت سی ایسی ویڈیو بھی ملی ہیں جن میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد تو موجود ہیں لیکن یہ ویڈیوز کتنی غیر جانبدار ہیں ان کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔

شام کی حکومت نے لڑائی میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سختی سے تردید کی ہے۔

برطانیہ کی جوائنٹ کیمیکل بایولوجیکل ریڈیولوجیکل نیوکلئیر رجمنٹ کے سابق سربراہ ہمیش برٹن گورڈن کا کہنا ہے کہ سراقب سے ملنے والے ثبوت ٹھوس تو ہیں لیکن ابھی بھی ’نامکمل ‘ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں سراقب جیسے دیگر واقعات میں ’لوگ بیمار ہو کر مر گئے اور ان کی علامات کسی کیمیائی زہر کے استعمال جیسی تھیں یہ اور آرگینوفاسفیٹ یا سرین گیس بھی ہو سکتی ہے۔‘

انھوں نے متاثرہ علاقے کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی مبینہ شواہد کو پرکھا ہے لیکن بی بی سی کو ملنے والے مواد تک انھیں رسائی فراہم کی گئی تھی۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سےامریکہ اور برطانیہ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ شام کی جانب سے کوئی بھی ایسا اقدام امریکی فوج کی شام میں ممکنہ مداخلت روکنے کے لیےآخری حد ہوگی۔ امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں واضح ثبوت نہیں ملیں ہیں۔

رواں سال مارچ میں شام کی حکومت اور حزبِ اختلاف نے ملک کے شمال میں ایک حملے کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔ اس حملے میں 27 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کی ذمہ داری دونوں طرفین حکومت اور باغیوں نے ایک دوسرے پر عائد کی تھی۔

کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے سویڈن کے سائنسدان کی سربراہی میں اقوام متحدہ کی پندرہ رکنی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔جنہیں شام کی حکومت نے متاثرہ علاقے کے علاوہ غیر مشروط رسائی کی اجازت نہیں دی۔ جبکہ اقوام متحدہ کی ٹیم کا موقف تھا کہ الزامات کی تحقیقات کے لیے انہیں غیر مشروط رسائی درکار ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ دو سال سے جاری لڑائی میں اب تک تقریباً 80 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں