عراق: دو دھماکوں میں چالیس ہلاک

Image caption خیال رہے کہ عراق کی شیعہ حکومت اور سنی اقلیت کے درمیان فرقہ وارانہ پْرتشدد کشیدگی چل رہی ہے

عراق کے دارالحکومت بغداد کے مضافاتی علاقوں بقوبہ اور مدائن میں دو دھماکوں میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔

ایک دھماکا بعد از نمازِ جمعہ بقوبہ کی ایک مسجد میں ہوا۔

پولیس اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہویا جب مسلمانوں کے سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے مسجد سے نمازی باہر آ رہے تھے۔

دوسرا دھماکا مدائن قصبے میں اس وقت ہوا جب مقامی میئر کی تدفین کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

خیال رہے کہ عراق کی شیعہ حکومت اور سنی اقلیت کے درمیان فرقہ وارانہ پُرتشدد کشیدگی چل رہی ہے۔

یہ دھماکے شیعہ مسلک کے لوگوں کو ملک بھر میں نشانہ بنانے کے دو دن بعد ہوئے ہیں۔

جمعرات کوشمالی عراق کے شہر کرکوک میں ایک مسجد پر ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔

اس مسجد میں گزشتہ دنوں میں مختلف تشدد کے واقعات کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ دار جمع تھے۔

اس دھماکے سے چند گھنٹے قبل بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بدھ کو عراق کے دارالحکومت بغداد سمیت ملک کے مختلف شیعہ اکثریت کے علاقوں میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 34 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

گزشتہ کچھ ہفتوں میں عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے ساتھ ہی شیعہ اکثریتی حکومت اور اقلیتی سنی فرقے کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔

پرتشدد واقعات کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب گذشتہ مہینے فوج نے حویجا قصبے کے قریب حکومت مخلاف سنی مسلک کے احتجاجی کیمپ پر چھاپہ مارا جس میں پچاس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مظاہرین نے حکومت پر سنی برادری کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

اسی بارے میں