بوسٹن بمبار جوہر سارنیف کا مبینہ پیغام

بوسٹن دھماکوں کے زندہ بچ جانے مشتبہ ملزم جوہر سارنیف کو امریکی پولیس نے ایک کشتی سے پکڑا تھا جو ایک گھر کی پیچھے کھڑی تھی۔

امریکی میڈیا میں جاری کی گئی رپورٹوں کے مطابق جوہر سارنیف نے اس کشتی میں ایک پیغام چھوڑا تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس مشتبہ نے اپنے پیغام میں بوسٹن بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کو کولیٹرل ڈیمج یعنی جنگ کے دوران ہوئے نقصان کی طرح بتایا۔

اس پیغام میں جوہر نے اپنے بھائی کو شہید قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’ کسی ایک مسلمان پر کیا گیا حملہ سارے مسلمانوں پر حملہ ہے۔‘

ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ اس پیغام میں بوسٹن میں کی گئی کارروائی کو امریکہ کی طرف سے عراق اور افغانستان میں جاری جنگ کا انتقام بتایا گیا ہے۔

جوہر بوسٹن دھماکوں کے بعد جاری کی گئی مہم کے بعد گرفتار کئے گئے تھے۔

ایک نامعلوم ذریعے نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ کشتی کے جس حصے پر سارنیف نے یہ پیغام لکھا ہے اس حصے کو مقدمے کے دوران عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

اس پیغام کے بارے میں سب سے پہلے سی بی ایس نیوز نے خبر دی اور اس کے مطابق یہ پیغام ہسپتال میں کی گئی پوچھ گچھ کے دوران ان کی جانب سے دیے گیِ مبینہ بیانات کی طرح لگتا ہے۔

جوہر اس وقت دہشت گرد سرگرمیوں کے الزام میں پولیس کی حراست میں ہیں اور اگر ان کو اس کے لیے قصوروار پایا گیا تو انہیں سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے۔

جوہر کو پولیس نے زخمی حالت میں ایک وسیع تلاشی مہم کے بعد بوسٹن کے ایک علاقے سے گرفتار کیا تھا جبکہ جوہر کے بھائی تیمرلان سارنیف ان کی گرفتاری سے پہلے والی رات کو پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

15 اپریل کو بوسٹن میراتھن کے دوران ہوئے دھماکوں میں تین افراد ہلاک جبکہ 264 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں