عراق: تشدد کے واقعات میں مزید ہلاکتیں

Image caption عراق میں تشدد کے واقعات میں گزشتہ کچھ ہفتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے

شمالی عراق کے شہر کرکوک میں ایک مسجد پر ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس مسجد میں گزشتہ دنوں میں مختلف تشدد کے واقعات کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ دار جمع تھے۔

اس دھماکے سے چند گھنٹے قبل بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بدھ کو عراق کے دارالحکومت بغداد سمیت ملک کے مختلف شیعہ اکثریت کے علاقوں میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 34 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

گزشتہ کچھ ہفتوں میں عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے ساتھ ہی شیعہ اکثریتی حکومت اور اقلیتی سنی فرقے کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔

اسی طرح کرکوک شہر میں ہی ایک خود کش بمبار کو پولیس نے ایک عمارت میں داخلے سے قبل روکا جس پر اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے آڑا لیا جس کے نتیجے میں ایک اعلیٰ پولیس افسر کے مطابق اٹھارہ افراد زخمی ہو گئے۔

جمعرات کی دن ایک کار بم کے دھماکے سے جو کرکوک شہر کے بس اڈے کے قریب ہوا جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ دھماکہ صبح کے مصروف اوقات میں ہوا۔

حسین مہدی نامی ایک دکاندار نے بتایا کہ اس دھماکے کے بعد ہر طرف افراتفری کا عالم تھا انہوں نے بتایا کہ ’لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے تاکہ زخمیوں اور ہلاک شدگان کو نکال سکیں اور میں نے دو تندور پر کام کرنے والوں کو دیکھا جو مکمل طور پر جل چکے تھے۔‘

پولیس کے مطابق اس دھماکے کے کچھ دیر بعد بغداد کے مشرقی مضافاتی علاقے کمالیہ میں ایک چھوٹے بازار میں کار بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔

بدھ کے روز پولیس کے مطابق گیارہ بم دھماکے ایک گھنٹے کے دوران ہوئے اور شمالی شہر کرکوک میں بھی دھماکے ہوئے۔

اپریل ہی کے مہینے میں مختلف تشدد کے واقعات میں سات سو سے زیادہ عراقی، شیعہ اور سنی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 34 افراد بدھ کے روز بغداد میں ہونے والے سلسلہ وار کار بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے۔

تشدد کے واقعات بغداد کے شمالی مضافاتی علاقوں قدیمیہ اور صدر سٹی اور مشرقی مضافاتی علاقوں مشتعال، بغداد جدید اور الحسینیہ کے علاقوں میں ہوئے۔

عراق میں سنی اور شیعہ افراد کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں سنی اقلیتی فرقہ کے لوگ وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت سے شکوں کناں ہیں کہ وہ انہیں ایک طرف دھکیل رہی ہے۔

پانچ مہینے قبل عراق کے سنی اکثریتی علاقوں میں مظاہرے شروع ہوئے اور ہویجہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے سنی مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی سنی مظاہرین ہلاک ہو گئے۔

ہویجہ کے واقعے کے بعد سے ملک کے اکثر علاقوں میں تشدد کے واقعات میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں ملک 2006 اور 2007 کے فرقہ وارانہ تشدد کی روش پر دوبارہ نہ چل پڑے۔