عراق: تشدد کے واقعات میں اضافہ 60 ہلاکتیں

Image caption عراق میں تشدد کے واقعات میں گزشتہ کچھ ہفتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے

عراق میں تشدد کے مختلف واقعات میں اب تک ساٹھ افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو چکے ہیں اور ان واقعات کا بظاہر نشانہ ملک کی سنی آبادی نظر آتی ہے۔

پہلا حملہ بغداد سے پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع بقوبہ کے علاقے میں ہوا جہاں ایک سنی مسلک کی مسجد کے قریب دو بم دھماکے ہوئے جن کے نتیجے میں اکتالیس افراد ہلاک ہو گئے۔

اس کے بعد پولیس کے مطابق مدائن شہر میں ایک جنازے کی اجتماع میں شریک سات افراد ہلاک ہو گئے جبکہ مغربی بغداد میں دو بم دھماکوں کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہو گئے۔

گزشتہ کچھ ہفتوں میں عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے ساتھ ہی شیعہ اکثریتی حکومت اور اقلیتی سنی فرقے کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔

جمعرات کو شمالی عراق کے شہر کرکوک میں ایک مسجد پر ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس مسجد میں گزشتہ دنوں میں مختلف تشدد کے واقعات کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ دار جمع تھے۔

جمعرات کو کرکوک کے دھماکے سے چند گھنٹے قبل بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بدھ کو عراق کے دارالحکومت بغداد سمیت ملک کے مختلف شیعہ اکثریت کے علاقوں میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 34 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

جمعے کے روز بقوبہ میں ہونے والے واقعے میں پولیس کے مطابق پہلا بم دھماکہ اس وقت ہوا جب نمازی جمعہ کی نماز پڑھ کر ایک سنی مسلک کی مسجد سے نکل رہے تھے۔ جب پہلے دھماکے کے بعد لوگ زخمیوں کی مدد کے لیے دوڑے تو دوسرا ریمورٹ کنٹرول دھماکہ ہوا۔

اس واقعے میں چھپن افراد زخمی ہوئے۔

ایک طالب علم ہاشم منـجز نے رائٹرز کو بتایا کہ ’میں پہلے دھماکے کی جگہ سے تیس میٹر کے فاصلے پر تھا اور زخمیوں کی مدد کے لیے فوری دوڑا جب دوسرا دھماکہ ہوگیا اور میں نے انسانی جسم اڑتے ہوئے دیکھے اور میری گردن میں بم کا ٹکڑا لگا۔‘

مدائن شہر میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں بیس افراد زخمی ہو گئے اور زیادہ تر افراد ایک مقامی میئر کے جنازے میں شریک تھے۔

بغداد ک سنی اکثریتی کاروباری علاقے میں دو بم دھماکوں کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہو گئے۔

عراق میں سنی اور شیعہ افراد کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں سنی اقلیتی فرقہ کے لوگ وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت سے شکوں کناں ہیں کہ وہ انہیں ایک طرف دھکیل رہی ہے۔

پانچ مہینے قبل عراق کے سنی اکثریتی علاقوں میں مظاہرے شروع ہوئے اور ہویجہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے سنی مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی سنی مظاہرین ہلاک ہو گئے۔

ہویجہ کے واقعے کے بعد سے ملک کے اکثر علاقوں میں تشدد کے واقعات میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں ملک 2006 اور 2007 کے فرقہ وارانہ تشدد کی روش پر دوبارہ نہ چل پڑے۔

اسی بارے میں