افغان نواز شریف سے خائف

Image caption بہت سے افغانوں کو خدشہ ہے کہ نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں بدامنی میں مزید اضافہ ہو گا

پاکستان کے عام انتخابات میں نواز شریف کی فتح کو افغانستان میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے وہاں میں مزید عدم استحکام پھیلے گا۔

طالبان نے نواز شریف کی جماعت پر انتخابی مہم کے دوران حملے نہیں کیے اور اس مہم میں کی جانے والی باتوں سے افغانستان میں اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ نواز شریف پاکستان اسٹیبلشمنٹ کے نمائندہ ہیں جس پر افغان اپنے زیادہ تر مصائب کا الزام دھرتے ہیں۔

نواز شریف نے عندیہ دیا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ تعاون ختم کرنا چاہیے اور کہا تھا کہ وہ پاکستان کے عسکریت پسندوں سے مذاکرات کریں گے۔

بہت سے افغانوں کو خدشہ ہے کہ وہ پاکستان طالبان سے صلح کر لیں گے، جو پاکستان کے اندر حملے چھوڑ کر اپنی توجہ افغانستان پر مرکوز کر لیں گے۔

مغربی افغان صوبے ہرات کے ایک باسی رحمت اللہ کہتے ہیں، ’نواز شریف افغانستان میں عدم استحکام کے عوض پاکستان میں امن چاہتے ہیں۔ وہ مستحکم اور مضبوط افغانستان نہیں دیکھنا چاہتے۔‘

اس تشویش کی جڑیں ماضی میں ہیں۔ نواز شریف فوجی آمر جنرل ضیاالحق کے بہت قریب تھے، جنھوں نے 1980 کی دہائی میں افغانستان میں روسی قبضے کے خلاف مزاحمت میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ جنرل ضیا اور نواز شریف کے پاکستان میں قائم تمام سات افغان مجاہدین دھڑوں سے قریبی تعلقات تھے۔ اسی پالیسی کی وجہ سے 1992 میں کابل میں روس کی پشت پناہی میں بننے والی حکومت کا تختہ الٹا گیا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے نواز شریف نے پشاور میں مجاہدین کی حکومت قائم کی تھی جس نے بعد میں افغانستان جا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

نواز شریف نے 28 اپریل کو مجاہدین کے اقتدار میں آنے کے بعد صرف ایک دن بعد کابل کا دورہ کیا تھا۔ 1993 میں انتخابی مہم کے دوران نواز شریف کی جماعت حریف بے نظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی کے خلاف یہ نعرہ بلند کیا کرتی تھی، ’تم نے ڈھاکہ دیا، ہم نے کابل لیا۔‘

اگرچہ طالبان بےنظیر بھٹو کی حکومت کے دوران نمودار ہوئے، لیکن نواز شریف کی حکومت نے 25 مئی 1997 کو ان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔

افغان صدر حامد کرزئی وہ پہلے بیرونی رہنما تھے جنھوں نے نواز شریف کو کامیابی پر مبارک باد دی تھی۔

انھوں نے نواز شریف کو فون کر کے امید ظاہر کی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مخلصانہ تعاون سے بہتری آئے گی۔

افغان عام طور پر الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کی سرپرستی کر رہا ہے اور اس نے پاکستان سے کئی بار مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے بقول اس کے عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں ختم کرے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اپنی جماعت کے خلاف عسکریت پسندوں کی حمایت کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

مسلم لیگ کی سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن اور سابق وزیرِ خارجہ سرتاج عزیز کہتے ہیں، ’اب جب کہ پاکستان میں مضبوط اور مقبول حکومت آ رہی ہے، افغانستان کو اس کا فرق محسوس ہو گا۔‘

دوطرفہ تعلقات میں بہتری آئے گی کیوں کہ دونوں کے درمیان امریکی فوج کے انخلا کے بعد امن اور افغانستان میں مستحکم حکومت قائم کرنے کے مقاصد مشترک ہیں۔‘

صدر آصف زرداری کے برعکس، جن پر نہ طالبان اعتماد کرتے تھے اور نہ ہی پاکستانی فوج، نواز شریف کے اندر وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ امن مذاکرات میں ثالث اور ضامن کا کردار ادا کر سکیں۔

انھوں نے پہلے ہی بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا لیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات کا افغانستان کی صورتِ حال پر مثبت اثر پڑے گا، کیوں کہ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر کو پاکستان میں تشویش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

نواز شریف کے پاس اب وہ مینڈیٹ ہے جس کے تحت انھیں ممکنہ طور پر پاکستان فوج اور پاکستانی اور افغان مذہبی اور عسکری دھڑے احترام اور ممکنہ طور پر خوف کی نظر سے دیکھیں گے۔

اس کے علاوہ وہ سعودی عرب کے بھی بہت قریب ہیں۔ سعودیہ کا اس خطے میں خاصا اثر و رسوخ ہے اور وہ افغان پالیسی اور پر اثر انداز ہو کر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن کی ثالثی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس تمام وجوہات کی بنا پر نواز شریف اپنے جانشینوں کی نسبت زیادہ بہتر طریقے سے افغانستان اور پاکستان دونوں ممالک میں عسکریت پسندی کو ختم کرنے اور اس خطے میں امن لانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح معیشت ہے۔ پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے انھیں نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ آپس پاس بھی امن و استحکام کی ضرورت ہو گی۔

لیکن تبدیلی راتوں رات نہیں آئے گی۔ پاکستان کی طاقتور فوج نئی سویلین حکومت کو افغان پالیسی سونپنے کے لیے اتنی آسانی سے تیار نہیں ہو گی۔

اسی بارے میں