اٹلی: حکومت کے خلاف ایک لاکھ افراد کا احتجاج

Image caption عوامی جائزوں کے مطابق نئے حکومت پر عوام کا اعتماد کم ہو رہا ہے

اٹلی کے شہر روم میں تاجر تنظیموں کے زیرِ انتظام تقریباً ایک لاکھ سے زائد مظاہرین نے نئے اتحادی حکومت کے پالیسیوں کے خلاف جلوس نکالا۔

سرخ جھنڈے اور پلے کارڈ اٹھائے مظاہرین نے ملک کے وزیرِاعظم انریکا لیٹا پر زور دیا کہ وہ کفایت شعاری کے اقدامات کو ترک کرکے روزگار پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔

اس جلوس کا احتمام دھات کا کام کرنے والے کارکنوں کی تنظیم ایف آئی او ایم اور سی جی آئی ایل نے کیا تھا۔

ایف آئی او ایم کے رہنما موریزیو لاندینی نے کہا، ’ہم حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ سابق وزرائے اعظم ماریو مونٹی اور سیلیویو برلسکونی کی سیاست کو تبدیل کرے۔اگر وہ تبدیلی نہیں لاتے جس طرح کے عوام نے ووٹوں کے ذریعے کہا ہے تو ہم کہاں جا سکتے ہیں۔‘

احتجاج کرنے والے ایک شخص انزو برنارڈس نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا، ’ہمیں امید ہے کہ آخرکار اس حکومت کو ہمیں سننا پڑے گا کیونکہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔‘

ادھر عوامی جائزوں کے مطابق نئے حکومت پر عوام کا اعتماد کم ہو رہا ہے۔

اٹلی کو گذشتہ چالیس سال کے بدترین مالی بحران کا سامنا ہے۔ اس کا قومی قرضہ سالانہ معاشی پیداوار کے 127 فیصد ہے جو یورو زون میں یونان کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

انتخابات سے پہلے وزیرِاعظم انریکا لیٹا نے روزگار کے مواقع بڑھانے کا عہد کیا تھا لیکن ناقدین ان کے پراپرٹی ٹیکس کے اصلاحات سے ناخوش ہیں۔

ملک میں 25 سال سے کم عمر افراد میں بے روزگاری کی شرح 11.5 سے 38 فیصد کے درمیان ہے۔

اسی بارے میں