چین بھارت دوستی

Image caption صرف چین اور بھارت میں پوری دنیا کی آبادی کا تیسرا حصہ آباد ہے

لے کے چیانگ نے گذشتہ مارچ میں چین کے وزیرِاعظم کا عہدہ سنھبالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے بھارت کا انتخاب کیا ہے۔

اس سے پہلے گذشتہ اتوار کو دونوں ممالک نے لداخ کے متنازعہ علاقے سے اپنی فوجوں کو اگلی پوزیشنوں سے واپس بلا لیا تھا۔

چین اور بھارت کے مابین لداخ کے علاقے میں ایک متنازعہ سرحد ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جس کے بارے میں بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے کہا تھا کہ وہاں گھاس کا ایک تنکا بھی نہیں اْگتا۔

چین کے صوبہ یوننن کے کیمونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار کانگ چن نے بی بی سی کے سینئر نامہ نگار سوبیر بھامک کو بتایا کہ’اس میں کوئی شک نہیں کہ چین کا بھارت کے ساتھ ایک سرحدی تنازعہ ہے لیکن ہم اس کی وجہ سے بھارت سے تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتے۔ ہم اس کو حل کرنا چاہتے ہیں۔‘

کانگ چن چاہتے ہیں کہ بھارت اور چین کے مابین تجارت کا حجم ایسے بڑھے جیسے چین کا دوسرے ہمسائیوں کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ چین پہلے ہی بھارت کا ایک بڑا تجارتی شراکت کار ہے اور اب دونوں ممالک نے 2015 تک اپنی سالانہ تجارت کو ایک سو ارب ڈالر تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کانگ چن سمجھتے ہیں کہ اگر دونوں ممالک سرحدی تنازعے کو ختم کر لیں تو تجارت اور تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

یوننن یونیورسٹی آف فنانس سے تعلق رکھنے والے لے زو کہتے ہیں کہ صرف چین اور بھارت میں پوری دنیا کی آبادی کا تیسرا حصہ آباد ہے اور اگر دونوں ممالک اپنے تعلقات کو بہتر بنا لیں تو ایک بڑا تجارتی بلاک بنا سکتے ہیں۔

کانگ چن کہتے ہیں کہ چین سے ویتنام، لاؤس ، تھائی لینڈ اور برما سے ملانے والی سڑکوں اور ریلوے کا ایک وسیع نیٹ ورک تیار کیا جا رہا ہے۔

گانگ چن کا کہنا ہے کہ چین سٹلویل روڈ کو دوبارہ کھولنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں چین کو سپلائی اسی سڑک سے ہوتی تھی۔ یہ سڑک بھارت کی ریاست آسام سے شروع ہوتی ہے اور ارونا چل پردیش سے ہوتی ہوئی برما کے بالائی علاقے کاچن سے ہوتے ہوئے چین کے صوبے یوننن جا پہنچتی ہے۔

لیکن بھارت کو اس سڑک سے متعلق کچھ سکیورٹی خدشات ہیں۔

کانگ چن چاہتے ہیں کہ بھارت کو چاہیے کہ یوننن کے صوبے میں دوائیاں بنانے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرے۔

کانگ چن کو خوشی ہوگی کہ اگر بھارت یوننن میں اپنا ایک قونصل خانہ کھولے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر بھارت اور چین کے تعلقات خراب ہوئے تو بھارت کا مکمل جھکاؤ امریکہ کی جانب ہو جائے گا جو چین کے لیے انتہائی پریشانی کا باعث ہو گا۔

یوننن ریسرچ گروپ سے تعلق رکھنے والے زو نشیانگ کا کہنا ہے کہ اگر چین اور بھارت کے تعلقات بگڑتے ہیں تو دنیاکے کچھ ممالک اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

چین پر گہری نظررکھنے والے بھارتی تجزیہ کار بی نودا مشرا کا خیال ہے کہ چین کی بھارت کے بارے میں پالیسی کافی دھیان سے تیار کی گئی ہے جس کا شاید بھارت میں کم ہی لوگوں کو احساس ہو گا۔

بے نودا مشرا کہتے ہیںکہ’چین کے فوجی کمانڈر تو شاید سرحد پر دباؤ بڑھا رہے ہوں لیکن چین کی اعلیٰ قیادت بھارت کی ابھرتی معیشت کی اہمیت کو سمجھتی ہے۔‘

دونوں ممالک کے مابین سرحدی تنازعہ اور تبت جیسے معاملات ہمیشہ رہیں گے۔ بھارت کے برعکس چین میں شاید ہی کسی کو 1962 کی جنگ کے بارے میں کچھ یاد ہو۔

یوننن یونیورسٹی کے طالبعلم لی ہشن کا کہنا ہے کہ تاریخی وجوہات کی وجہ سے چین کا جاپان کے ساتھ بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن انڈیا کے ساتھ نہیں۔

اسی بارے میں