تیونس: جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی

Image caption پولیس نے آخرکار مظاہرین کو پڑوسی ضلعے انتقیلا کی طرف دھکیل دیا

تیونس کی پولیس اور سخت گیر موقف رکھنے والے اسلامی تنظیم کے حمایتیوں کے مابین جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

مظاہرین حکومت کی طرف سے اسلامی تنظیم انصارالا شریعہ سلفیہ کی سالانہ اجلاس کو روکنے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق تیونس شہر کے مضافاتی علاقے التضامن میں مظاہرہ کرنے والا ایک شخص ہلاک اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

پولیس کا القيروان شہر میں بھی مظاہرین کے ساتھ تصادم ہوا۔ انصارالاشریعہ سلفیہ کا سالانہ اجلاس بھی القیروان میں ہونا تھا جس پر حکومت نے یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی تھی کہ اس سے امن و امان کو خطرہ ہے۔

انصارالاشریعہ نے اپنے حمایتیوں کو التضامن میں جمع ہو نے کو کہا۔اطلاعات کے مطابق تقریباً 500 مظاہرین وہاں اتوار کو جمع ہوئے۔انہوں نے رکاوٹیں کھڑی کیں اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔

پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا۔جس کے بعد سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق جھڑپوں میں ستائیس سالہ ایک شخص ہلاک اور گیارہ پولیس اہلکار خمی ہوگئے۔

پولیس نے آخرکار مظاہرین کو پڑوسی ضلعے انتقیلا کی طرف دھکیل دیا جہاں شام تک جھڑپیں جاری رہیں۔

القیران میں پولیس کی بھاری نفری بھی سخت گیر موقف رکھنے والے مظاہرین کو جمع ہونے سے نہ روک سکی۔

انصارالاشریعہ نے کہا کہ ان کے ترجمان سیف الدین رئیس کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں کیوں گرفتار کیا گیا۔

اسی بارے میں