شام:’قصیر دوبارہ حکومتی افواج کے قبضے میں‘

قصیر
Image caption شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح بغاوت میں لاکھوں افراد ترک وطن پر مجبور ہوئے ہیں

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکومتی افواج نے باغیوں کا گڑھ سمجھے جانے والے شہر قصیر پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ شامی فوجیوں نے قصیر کا ہفتوں سے محاصرہ کر رکھا تھا اور شامی میڈیا کے مطابق قصیر شہر پر دوبارہ قبضے کے دوران سینکڑوں دہشت گرد مارے گئے۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے قصیر شہر پر حکومتی قبضے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لڑائی کے دوران لبنان کی شدت پسند تنظیم حزب اللہ کے کم سے کم 20 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

کہا جا رہا ہے کہ قصیر میں جاری تصادم میں لبنانی جنگجو بھی شامل ہیں۔ ایک جانب حزب اللہ فوج کا ساتھ دے رہی ہے تو دوسری جانب سنی بندوق بردار باغیوں کے ساتھ ہیں۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے کہا ہے کہ فوج نے قصیر کے بیشتر حصے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور ’بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جن میں زیادہ تر غیر شامی تھے‘۔

فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے سانا نیوز ایجنسی نے کہا ’درجنوں باغیوں نے فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے جبکہ فوج شہر کے بعض علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کے تعاقب میں ہے‘۔

شام کے سرکاری میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ فوج نے شہر کے بیشتر حصے میں ’سکیورٹی اور معمول کی زندگی بحال کر دی تھی‘۔ تاہم باغیوں نے حکومتی میڈیا کے اس دعوے کی تردید کی تھی۔

ادھر شام کی حزب مخالف کا کہنا ہے کہ قصیر شہر میں جاری شدید لڑائی کی وجہ سے ہزاروں عام شہری پھنس گئے ہیں جن کے قتلِ عام کا خطرہ ہے۔

اس سے پہلے شہر قصیر پر قبضے کے لیے حکومتی اور باغی فوجیوں میں شدید لڑائی کی اطلاعات ملی تھیں۔

قصیر کی یہ جنگ لڑائی شام سے نکل کر لبنان میں داخل ہو چکی ہے۔ لبنان کی قومی نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ شام سے فائر کیے جانے والے کئی مارٹر گولے لبنان کے مشرقی شہر حرمل پر گرے ہیں لیکن وہاں سے کسی ہلاکت یا بڑے پیمانے پر نقصانات کی اطلاع نہیں ملی۔

خبروں میں بتایا گیا تھا کہ لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں شامی صدر بشار الاسد اور باغی جنگجوؤں کے حامیوں کے درمیان لڑائی میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

لبنان سے ملحق شام کا شہر قصیر 30 ہزار آبادی پر مشتمل ہے اور عسکری لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس پر کنٹرول سے حکومت کو دارالحکومت سے ساحل تک رسائی ملتی ہے جبکہ بی بی سی کے جم میور کا کہنا ہے کہ باغیوں کے لیے اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس سے انھیں لبنان میں آنے جانے کا راستہ مل جاتا ہے۔

اسی بارے میں