ایران:رفسنجانی اور مشائی صدارتی انتخاب سے باہر

Image caption اکبر ہاشمی رفسنجانی کے بارے میں خیال تھا کہ انہیں انتخاب میں اصلاح پسند اور معتدل سیاسی رہنماؤں کی حمایت حاصل ہو گی

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شورئ نگہبان نے چودہ جون کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں دو اہم سیاسی رہنماوں کو حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی اور اسفندیار رحیم مشائی موجودہ صدر محمود احمدی نژاد کے حامی سمجھے جاتے ہیں اور ان کا نام صدارتی امیدواروں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔

ملک کے موجودہ صدر محمود احمدی نژاد آئینی پابندی کی وجہ سے تیسری مدت کے لیے صدر نہیں بن سکتے اور ان کے جگہ لینے کے لیے 686 امیدواروں نے خود کو رجسٹر کروایا۔

شورئ نگہبان نے اس فہرست کی جانچ پڑتال کے بعد صرف آٹھ امیدواروں کو انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔

شورئ نگہبان ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی حامی سمجھی جاتی ہے۔

بارہ رکنی شورئ نگہبان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسلامی اقدار کے مطابق انتخابی امیدواروں کی چھانٹی کرے اور اس کے ممبران کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تمام سخت گیر قدامت پسند ہیں اور ان کا ملک کے حکمراں مذہبی رہنماوں سے تعلق ہے۔

Image caption 686 صدارتی امیدواروں نے خود کو رجسٹر کروایا تھا جن میں آٹھ منتخب ہوئے

آٹھ صدارتی امیداروں میں ایران کے جوہری پروگرام کے عالمی مذاکرات کار سعید جلیلی، سابق جوہری مذاکرات کار حسن روحانی، سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی اور تہران کے میئر محمد باقر قالیباف شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایران کے طاقتور پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی،پارلیمان کے سابق سپیکر غلام علی حداد عادل شامل ہیں۔ ان میں سابق وزیر برائے ٹیکنالوجی اور نائب صدر محمد رضا عارف کا نام بھی شامل ہے جنہیں واحد اصلاح پسند کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اکبر ہاشمی رفسنجانی ایران کے صدر رہ چکے ہیں وہ گزشتہ انتخابات کے دوران نظربند تھے اور اس بار ان کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا وہ اصلاح پسند اور معتدل سیاست دانوں کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔

شورئ نگہبان کی جانب سے انہیں نااہل قرار دیے جانے کے بارے میں کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم شورئ نگہبان کے ترجمان عباس علی کدخدائی کی رائے کے مطابق رفسجانی کو اس لیے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کی عمر 78 سالہ ہے اور صدر کے عہدے کی ذمہ داریوں کو سنبھالنا ان کے لیے مشکل لگتا ہے۔

انہوں نے اتوار کو العالم ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ کوئی بھی شخصت اعلیٰ عہدے پر جانا چاہتی ہے، لیکن صرف دن میں کئی گھنٹے کام کرنے کی اہل ہو، اسے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار نہیں دیا جا سکتا‘۔

ابھی تک اکبر ہاشمی رفسنجانی کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر رفسنجانی کے حامیوں نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے۔

اسفندیار رحیم مشائی نے صدارتی انتخابات کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے کو غیرمنصفانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف رہبر اعلیٰ سے رجوع کریں گے۔

انہوں نے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا’خدا کی رضامندی سے یہ طے پا جائے گا۔‘

تاہم شورئ نگہبان کے ترجمان نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ’ انتخابی قوانین میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جس کے تحت امیدوار اپیل کا حق رکھتے ہوں‘۔

چند روز پہلے ہی شورئ نگہبان نے صدارتی انتخاب میں خواتین کے حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

2009 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں کل 475 امیدواروں نے رجسٹریشن کروائی تھی لیکن شورئ نگہبان نے صرف 4 کو الیکشن میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا تھا۔

ایرانی اپوزیشن نے ان انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں