برما فسادات: چھ مسلمانوں کو جیل بھیج دیا گیا

برما کے قصبے میکتیلا میں چھ مسلمانوں کو ملک میں مذہبی فسادات پھیلانے کے الزام میں رواں برس مارچ میں جیل بھیج دیا گیا۔

ان چھ افراد میں سے ایک کو برما کے ایک راہب کو ہلاک کرنے کے جرم میں 34 برس قید کی سزا سنائی گئی۔

برما کے پانچ دیگر افراد کو دو سے چودہ برس کی سزا دی گئی۔

خیال رہے کہ رواں برس برما میں ایک مسلمان شخص کی دکان پر ہونے والی بحث کے بعد ہونے والے تشدد میں کم سے کم 43 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

برما کے بدھوں میں سے ابھی تک کسی کو بھی اس حوالے سے مجرم نہیں ٹھہرایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق برما کے ایک راہب کو میبنہ طور پر ان کے موٹر سائیکل سے گرانے کے بعد مسلمان مردوں کے ایک گروپ نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کر دیا۔

برما میں ایک راہب کی ہلاکت کے واقعہ کے خلاف میکتیلا میں ہونے والا تشدد کا نشانہ مسلمان کی اقلیت آبادی بنی۔

یہ تشدد بڑھتے بڑھتے تین دیگر قصبوں تک پھیل گیا جس کے نتیجے میں 12,000 سے زیادہ مسلمانوں کو بے گھر ہونا پڑا۔

برما میں ایک مسلمان شخص کی سنار کی دکان جہاں سے اس بحث کا آغاز ہوا، اس شخص کی بیوی اور ایک ملازم کو اپریل میں چوری اور حملہ کرنے کے جرم میں سزا سنائی گی۔

برما میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جُونا فشر کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں دکھانے جانے والے مناظر جس میں مسلمانوں کے گھروں اور مساجد کو جلاتے ہوئے دکھایا گیا کے باوجود بدھوں کا انصاف بہت آہستہ آہستہ کام کر رہا ہے۔

برما میں ہونے والے فسادات میں 40 سے زیادہ بدھوں کو قید کیا گیا تاہم ایک وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے مقدمات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔

اسی بارے میں