شمالی کوریا کے خصوصی نمائندے کا دورۂ چین

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ آن نے اپنے ایک خصوصی نمائندے کو چین بھیجا ہے۔دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین تعلقات سردمہری کا شکار ہیں۔

اُن کے دورے کے بارے میں مزید وضاحت نہیں دی گئی لیکن یہ دورہ ایسے حالات میں ہورہا ہے جب شمالی کوریا کی طرف سے تیسری بار نیوکلئر ٹیسٹ کے بعد چین کی موقف میں سختی آئی ہے

ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے نے بدھ کو کہا کہ ایک اعلیٰ عسکری عہدیدار چوئے ریانگ ہاؤ چین کے دارالحکومت بیجنگ گئے ہیں۔اگست 2012 کے بعد کسی بھی شمالی کوریائی سینئر اہلکار کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبررساں ادارے کے سی این اے کے مطابق چوئے ریانگ شمالی کوریا کی فوج کے سیاسی بیورو کے ڈائریکٹر ہیں۔

سیول میں بی بی سی کے لوسی ویلیمسن کا کہنا ہے کہ چوئے ریانگ نے شمالی کوریا کے نوجوان رہنما کم جونگ آن کے زیرِ سررستی بہت جلد ترقی پائی ہے، انہیں گذشتہ سال وائس مارشل بنایا گیا ہے اور پارٹی میں بھی اہم عہدہ دیا گیا ہے۔

شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی وجہ سے عائد ہونے والی اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے ردِعمل میں حالیہ چند ہفتوں میں کئی مرتبہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ چھیڑنے کی دھمکی دی تھی۔

چین کو شمالی کوریا کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے جو روایتی طور پر شمالی کوریا میں سیاسی استحکام چاہتا ہے کیونکہ چین یہ نہیں چاہتا ہے کہ شمالی کوریا میں ابتر حالات کے بعد مہاجرین سرحد پار کرکے ان کے ملک میں آئیں۔

تاہم پیانگ یانگ کی طرف سے بارہ فروری کو تیسری بار نیوکلئر ٹیسٹ کرنے اور اشتعال انگیز بیانات کے بعد چین نے اپنی افسردگی کا اظہار کیا تھا۔ چین کی سرکاری میڈیا بھی شمالی کوریا کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے سے چین کو ملنے والے فوائد پر کھل کے بحث کر رہا ہے۔

بیجنگ نے پیانگ یانگ کے خلاف اقوامِ متحدہ کی طرف سے پابندیوں کی حمایت کی اور اس کے کچھ چینی بینکوں نے حالیہ دنوں میں شمالی کوریا کے فارن ٹریڈ بینک کے ساتھ روزگار ختم کیا۔

اسی بارے میں