ایران کی مذہبی قیادت کمزور؟

Image caption سابق صدر رفسنجانی کا انقلابی سیاست سے اصلاح پسند ی کا سفر، جس کے بعد وہ ملکی سیاست سے باہر ہوگئے

ایران کے سابق صدر اور اعتدال پسند سمجھے جانے والے آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کو چودہ جون کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یہ فیصلہ ایران کے آئینی ادارے شورئ نگہبان نے کیا ہے، جوایک ایسی با اختیار شوریٰ ہے جو کسی بھی ممکنہ امیدوار کو محض یہ کہہ کر انتخاب میں حصہ لینے سے روک سکتی ہے کہ وہ اس عہدے کا اہل نہیں ہے۔

تاہم اس فیصلے کے سب سے زیادہ سنگین مضمرات خود اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کے لیے ہوسکتے ہیں۔

اٹھہتر سالہ آیت اللہ ایران کے اعتدال پسند طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کو امیدواروں کی فہرست سے نکال باہر کر دینے کا سے اس طبقے میں یہ تاثر پیدا ہوگا کہ ان کی نمائندگی کرنے والے امیدوار کو انتخابی عمل سے الگ کرکے انھیں ملک کے سیاسی عمل سے دور کر دیا گیا ہے۔ جس کے ایک ردعمل کے طور وہ انتخابات کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں، ان میں ملک کا متوسط اور کاروباری طبقہ، اور روایت پسند علماء شامل ہیں۔

مسٹر رفسنجانی کو نا اہل قرار دینے کا ایک مطلب اور بھی ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ ملک کی سیاسی قیادت اب اتنی کمزور اور برہم ہوچکی ہے کہ وہ اپنی ہی جڑیں اکھاڑنا چاہتی ہے۔

جس کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی معاشرے کے اس طبقے کے رد عمل سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ملک کی مذہبی قیادت کو انتہائی سخت اور میانہ رو آوازیں کچل دینے والی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔

اصلاح پسند بن جانے والے انقلابی رہنما رفسنجانی ایرانی انقلاب کے بانیوں میں سے ایک ایسے رہنما ہیں، جنھوں نے مسلسل آٹھ برس تک عراق کی جانب سے تھوپی جانے والی جنگ کو سہا، اور اس کوختم کروانے کے بعد ملک میں از سر نو تعمیری پروگرام شروع کیا۔

آیت اللہ رفسنجانی اپنی زندگی کےکوئی پچاس برس تک انقلابی سیاست کرنے کے بعد اب میانہ روی کی جانب مائل ہوچکے تھے۔

وہ گزشتہ چار برس سے خارجہ پالیسی میں نرمی ، اعتدال اور ملک کے اندر ایک روشن خیال معاشرے کے قیام پر زور دے رہے تھے۔

ملک کی قدامت پرست قیادت کو رفسنجانی کے انداز فکر میں یہ تبدیلی قطعی نہیں بھاتی، ان کے ایسے ہی نظریات کے باعث انھیں کسی بھی قسم کے اختیارات سے وہ آہستہ آہستہ محروم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے۔ یہانتک کہ اٰن کے بچوں کو مختلف الزامات کے تحت قید کردیا گیا، لوگوں کا کہنا ہے کہ الزامات زیادہ تر گھڑےگئے تھے۔

اب رفسنجانی کی امیدواری مسترد ہوجانے کے بعداٰن کے اصلاح پسند حامی گروہ انہیں چھوڑ سکتے ہیں، جس کے بعد وہ مرکزی سیاست سے عملاً علیحدگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہونگے۔

موجودہ منظر نامے میں ایران کے اصلاح پسند حلقے رفسنجانی کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی کوشش کو سراہیں گے تو کچھ لوگ ایسے بھی ہونگے جن کا سیاسی عمل پر سے اعتبار اٹھ جائیگا اورہوسکتا ہے وہ سیاست کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیں۔

اصلاح پسند طبقے کے کچھ گروہ انتہاپسندی پر مائل ہوسکتے ہیں۔ شام، لیبیا اور مصر میں بے چینی اور افراتفری دیکھنے کے باوجود یہ گروہ یہ سوچنے پر مجبور ہوسکتے ہیں کہ ملک میں پوری قیادت گرانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

بہرحال مسقبل میں سیاسی حالات جو بھی کروٹ بدلیں، ایک بات طے ہے کہ ایران کے مرکزی سیاسی دھارے سے رفسنجانی کی علیحدگی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کیا ہے۔

اسی بارے میں