مصر: سینا میں یرغمال 7 سکیورٹی اہلکار رہا

Image caption صدر مرسی نے غیر متوقع طور پر سینا کے مسلح گروہوں سے اپیل کی کہ وہ ہتھیار پھینک دیں

مصر کے جزیرہ نما سینا میں اغوا کیے گئے سات مصری سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

یہ ساتوں اہلکار بدھ کو دارالحکومت قاہرہ کے قریب واقع ایک فوجی اڈے پر واپس پہنچے جہاں انہیں صدر مرسی اور حکومتی وزراء نے خوش آمدید کہا۔

صدر مرسی نے غیر متوقع طور پر سینا کے مسلح گروہوں سے اپیل کی کہ وہ ہتھیار پھینک دیں۔

جزیرہ نما سینا 2011 میں سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لاقانونیت کا شکار ہے۔

یہ سات افراد گذشتہ ہفتے شمالی سینا میں العارش شہر کے مشرق سے اس وقت اغوا کیے گئے تھے جب وہ ایک منی بس میں سفر کر رہے تھے۔

مصر کی فوج نے اپنے سرکاری فیس بک صفحے پر لکھا ہے کہ ان فوجیوں کی رہائی ’فوجی خفیہ ایجنسیوں اور مقامی قبائلی عمائدین کی مدد سے ممکن ہوئی ہے۔‘

مصری حکام نے رفا کی سرحدی گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے جو کہ مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان زمینی راستے کا کام دیتی ہے۔ اسے ان اہلکاروں کے اغوا کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔

صدر مرسی کو سرکاری مصری ٹی وی چینل ون پر براہ راست ان سات اہلکاروں کا خیر مقدم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

انہوں نے اپنی تقریر میں ان اہلکاروں کی تعریف کی جنہوں نے ان سات اہلکاروں کی رہائی کو ممکن بنایا اور اس بات کے عزم کا اظہار کیا کہ ’ان افراد کو اغوا کرنے والوں سے نمٹا جائے گا۔‘

صدر مرسی نے کہا کہ ان کی حکومت جزیرہ نما سینا میں استحکام کی صورتحال واپس لائے گی جو 1982 میں اسرائیلی فوجوں کے انخلا کے بعد سے فوجی انتظام کے تحت چلتا رہا ہے۔

انہوں نے تمام مسلح گروہوں سے ہتھیار واپس کرنے کا کہا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس جزیرہ نما کے رہائشی افراد بھاری اسلحہ سے لیس ہیں اور مصر کے سابق حکومتوں نے اس معاملے میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوشش نہیں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے اب ہم اس علاقے کے لوگوں کی ترقی اور بہتری کے لیے کام کریں اور ان کے مسائل حل کریں۔

پیر کو مصری صدر محمد مرسی نے اغوا کرنے والوں سے کسی قسم کی مصالحت کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔

منگل کو مصری فوجیوں سینا میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

اغوا کاروں کی شناخت نہیں ہوئی مگر اطلاعات کے مطابق وہ اسلامی شدت پسند جہادی ہیں۔

شمالی سینا کے اسلام پسند جنگجو ان علاقوں میں مرکزی حکومت کی کمزور گرفت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیلی سرحد کے پار بھی حملے کرتے رہتے ہیں۔

مصری بدو اپنے قبیلے کے لوگوں کی جیل سے رہائی کے لیے بھی اغوا کا سہار لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو دہشت گردی اور منشیات کی غیر قانونی تجارت کے غلط مقدموں میں ماخوذ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں