ڈھاکہ:مالکان کے لیے عمرقید کی سفارش

Image caption یہ دنیا میں ملبوسات کی صنعت کا سب سے ہولناک حادثہ تھا جس میں گیارہ سو سے زائد افراد مارے گئے تھے

بنگلہ دیش میں اپریل میں عمارت کے انہدام کی تحقیقات کرنے والی سرکاری کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ عمارت کے مالک اور اس اندر کام کرنے والے پانچ کارخانوں کے مالکوں کو عمر قید کی سزا دی جائے۔

واضح رہے کہ 24 اپریل کو ڈھاکہ کے مضافات میں آٹھ منزلہ رانا پلازا منہدم ہو جانے سے گیارہ سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے قائم کردہ کمیٹی نے کہا ہے کہ دنیا میں ملبوسات کی صنعت کے سب سے ہولناک حادثے میں عمارت کے مالکان کئی درجوں پر ناکام ہوئے۔

ان ناکامیوں میں دلدلی زمین پر تعمیر کی جانے والی عمارت، بڑی اور بھاری اور لرزش پیدا کرنے والی مشینیں شامل ہیں۔ موجودہ قوانین کے مطابق ایسے جرائم میں انتہائی سزا سات سال قید ہے۔

تاہم اس رپورٹ میں کارخانوں میں مزدوروں کی سلامتی کے لیے قائم انضباطی نظام کے کردار کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والا سامان انتہائی ناقص معیار کا تھا۔

اس حادثے کے بعد بنگلہ دیش میں مزدوروں کے کام کے غیرمناسب حالات، کم تنخواہیں اور سلامتی کے ناقص معیار پر توجہ مرکوز ہوئی ہے۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جس زمین پر یہ عمارت تعمیر کی گئی وہ کئی منزلہ عمارت کی تعمیر کے لیے نامناسب تھی۔ یہ زمین دلدلی تھی جسے کوڑا ڈال کر خشک کیا گیا اور پھر اس کے اوپر عمارت کھڑی کی گئی۔

اس کے علاوہ عمارت کے مالک سہیل رانا نے نہایت ناقص معیار کا سریا استعمال کیا تھا۔ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ معین الدین احمد نے اے پی کو بتایا کہ اس عمارت کی تعمیر میں ’کئی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رانا نے صرف چھ منزلوں کی تعمیر کی اجازت لی تھی لیکن بعد میں غیرقانونی طریقے سے دو مزید منزلیں تعمیر کر لیں تاکہ انھیں کرایے پر دیا جا سکے۔

اس سے قبل آنے والی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ ان کے پاس صرف پانچ منزلیں تعمیر کرنے کا اجازت نامہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق عمارت صنعتی استعمال کے لیے نہیں بنی تھی اور یہ کہ مشینری کا وزن اور اس کے چلنے سے پیدا ہونے والا ارتعاش عمارت کے انہدام کی اہم وجوہات میں شامل تھے۔

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اگر رانا اور ملبوسات کے کارخانوں کے مالکان کو تعمیر کے قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے تو انھیں عمر قید کی سزا دی جائے۔

رانا، تین انجینیئر اور چار کارخانہ مالکان پہلے ہی سے حراست میں ہیں تاہم اس وقت بنگلہ دیش میں عمارتی قواعد کی خلاف ورزی کی زیادہ سے زیادہ سزا سات سال قید ہے۔

انسانی حقوق کے کارکن صرف مالکان ہی کو نہیں بلکہ حکومت کو بھی اس حادثے کا ذمے دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کارخانوں کے معائنے کے لیے بہت کم انسپکٹر مقرر کیے گئے ہیں اور وہ بڑی آسانی سے رشوت قبول کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملبوسات کی صنعت بھی حکومت پر خاصا اثر انداز ہوتی ہے۔

اسی بارے میں