کابل:دھماکہ اور فائرنگ، سات افراد ہلاک

Image caption افغان سکیورٹی فورسز حملے سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہیں

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پولیس حکام کے مطابق ایک دھماکے اور طالبان شدت پسندوں کے خلاف کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی کارروائی میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

جمعہ کو کابل میں مہاجرین کی بحالی کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن (آئی او ایم) کے عملے کے زیر استعمال ایک گیسٹ ہاؤس کے قریب دھماکہ ہوا اور اس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

شدت پسند گیسٹ ہاؤس میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور بعد میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تشدد کے اس واقعہ میں ایک اطلالوی خاتون شدید زخمی ہو گئی ہیں جبکہ گیسٹ ہاؤس کے دو نیپالی محافظ بھی زخمی ہوئے اور ان میں سے ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

افغان طالبان نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے تربیتی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

اس واقعے میں سات پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حملے کے فوری بعد کابل پولیس کے سربراہ جنرل ایوب سالنگی نے بی بی سی کو بتایا ’ہم ایک مربوط حملے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ افغان سکیورٹی فورسز اس معاملے سے نمٹ رہی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ کم سے کم دو خودکش حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا ہے جب کہ دو حملہ آور اب بھی لڑ رہے ہیں۔

دھماکے کے نتیجے میں اٹھنے والا دھواں کئی کلومیٹر دور سے دیکھا جا سکتا تھا۔

افغان چینل ون ٹی وی نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ کئی حملہ آور افغان پبلک پروٹیکشن فورس (اے پی پی ایف) کے ڈائریکٹریٹ میں داخل ہو گئے ہیں۔

حملے کے علاقے میں دکانداروں نے کہا کہ دھماکے سے ان کی دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔

اسی بارے میں