’مشتبہ حملہ آور کو ایم آئی فائیو کی نوکری کی پیشکش‘

ابو نصیبہ
Image caption بی بی سی کے انٹرویو کے بعد ابو نصیبہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

لندن کے وول وچ میں قتل کے الزام میں گرفتار مائکل ادیبولاجو کے بچپن کے دوست نے کہا ہے کہ چھ ماہ قبل مائکل ادیبولاجو کو برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو نے نوکری کی پیشکش کی تھی۔

ادیبو لاجو کے عہدِ طفلی کے دوست ابو نصیبہ نے بی بی سی نیوز نائٹ سے کہا کہ ان کے دوست نے سکیورٹی سروس کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔

واضح رہے کہ مائکل ادیبولاجو جنوب مشرقی لند میں قتل کیے جانے والے ڈرمر لی رگبی کے قتل کے دو ملزمین میں سے ایک ہیں۔

بہر حال اس معاملے کی بی بی سی کو خفیہ ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر وھائٹ ہال سے تصدیق نہ ہو سکی۔

بی بی سی کے انٹرویو کے بعد ابو نصیبہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

لندن کی مٹ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے 31 سالہ شخص کو لندن کے وقت کے مطابق جمعہ کی رات ساڑھے نو بجے دہشت گردی کے مبینہ واقعے میں گرفتار کیا ہے اور مشرقی لندن کے دو مکانوں کی تلاشی جا رہی ہے۔

یہ گرفتاریاں ڈرمر رگی کے قتل معاملے سے براہ راست منسلک نہیں ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی فوجی ڈرمر کو بدھ کی سپہر وول وچ بیرک میں قتل کر دیا گیا تھا۔

Image caption مشتبہ قاتل ادیبولاجو نے کئی سال قبل اسلام قبول کیا تھا

ابو نصیبہ نے نیوز نائٹ کے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں گزشتہ سال کینیا کے دورے کے دوران سکیورٹی فورسز کی حراست میں رہنے کے بعد سے ان میں ’تبدیلی‘ آئی تھی۔

ابو نصیبہ نے کہا کہ ’ان کے دوست ادیبولاجو نے کہا تھا کہ افریقی ملک کی جیل میں تفتیش کے دوران انہیں جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیاتھا۔‘

نصیبہ نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد وہ الگ تھلگ رہنے لگا وہ کم گفتگو کرنے لگا اور وہ پرانا چہکنے والا شخص نہیں رہا۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں ادیبولاجو نے بتایا تھا کہ واپسی پر ایم آئی فائیو ان کے پیچھے پڑ گئي تھی اور ’اس کے دروازے پر دستک دیتی رہتی تھی۔‘

ابو نصیبہ نے کہا کہ ’بنیادی طور پر اسے حراساں کیا جا رہا تھا‘۔

اس نے مزید کہا کہ ادیبولاجو کے اس بارے میں یہ الفاظ تھے ’وہ میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں وہ مجھے نہیں چھوڑیں گے۔‘

’شروع میں وہ کسی مخصوص شخص کے بارے میں پوچھتے کہ آیا وہ اسے جانتے ہیں کہ نہیں لیکن جب اس نے ان کے بارے میں اپنی لاعلمی ظاہر کی تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ ان کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔‘

’انھوں نے واضح طور پر ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا تھا اور انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ان افراد کو نہیں جانتے ہیں۔‘

ایم آئی فائیو کے ہیڈ کوراٹر وھائٹ ہال نے بی بی سی سے بتایا کہ 28 سالہ ادیبولاجو بنیادی طور پر مشرقی لندن کے علاقے رومفورڈکے رہائشی ہیں اور ان کے ساتھی 22 سالہ مائکل ادیبووالے جنوب مشرقی لندن گرینچ کے رہنے والے ہیں اور وہ انھیں گزشتہ آٹھ برسوں سے جانتے ہیں۔

اس قتل کے معاملے میں دو خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جنھیں بعد میں رہا کر دیا گیا لیکن ایک 29 سالہ شخص کو ابھی بھی حراست میں رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں