شام کے سرحدی علاقے قصیر میں فوج کی بمباری

Image caption فوج کا کہنا ہے کہ اس نے باغیوں کے علاقے پر تینوں اطراف سے حملہ کیا ہے

شام کے سرحدی قصبے قصیر میں دونوں اطراف سے شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں اور فوج کا کہنا ہے کہ اس نے باغیوں کے علاقے پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے تینوں اطراف سے حملہ کیا ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کے کہنے پر لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے جنگجو اُن ببماری کر رہے ہیں۔ شام اور لبنان کے سرحدی قصبے قصیر میں ایک ہفتے سے جاری لڑائی میں تیزی سنیچر کو آئی۔

سرگرم افراد کا کہنا ہے کہ علاقے پر میزائل سمیت بھاری ہتھیاروں سے بمباری کی گئی۔ فضائی حملے اور راکٹ بھی فائر کیے گئے۔.

حزبِ مخالف کے سرگرم رکن مالک آمر نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ’جب سے لڑائی شروع ہوئی ہے میں نے ایسا دن نہیں دیکھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ گھر گھر جا کر شہر تباہ کر دیں گے۔‘

شام میں انسانی حقوق کے علمبردار تنظیم کا کہنا ہے قصیر کی لڑائی میں بائیس افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ فوج نےقصیر پر تین اطراف سے حملہ کیا اور اسے کامیابی ہوئی۔ لڑائی میں کئی باغی ہلاک ہوئے ہیں لیکن سرکاری میڈیا نے لڑائی میں حزب اللہ کی شمولیت کا ذکر نہیں کیا ہے۔

امکان ہے کہ سنیچر کی شب حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ پہلی بار قصیر کی لڑائی میں اپنی جماعت کے ملوث ہونے کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔

شام حزبِ مخالف کے گروہوں نے حکومت کے اقتدار سے علیحدگی کو امن کانفرنس میں شرکت سے مشروط کیا ہے۔ روس اور امریکہ اگلے ماہ شام کے مسئلے پر امن کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ کانفرنس جینوا میں ہو گی۔

حزب اختلاف نے کانفرنس کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر بشار الاسد کی اقتدار سے برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی اتحاد کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’ ہم مسئلے کا سیاسی حل چاہتے ہیں لیکن ہم موجودہ اقتدار کے دھوکے میں نہیں آئیں گے انھوں نے ہمیں پہلے بھی کئی بار دھوکہ دیا ہے‘

اس سے پہلے بھی شام کی سیاسی حل کی کوششیں دونوں جانب کی پہلے سے طے شدہ شرائط کے باعث کامیاب نہیں ہو سکیں ہیں۔بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرحد سے ملحقہ قصیر کا قصبہ باغیوں اور حکومت دونوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

اسی بارے میں