بغداد میں کار بم دھماکے: 66 سے زائد افراد ہلاک

Image caption فائر فائٹر بغداد میں آگ بجھا رہے ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں متعدد کار بموں میں کم از کم 66 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شہر کے شاپنگ سنٹروں اور مصروف بازاروں میں ہونے والوں کم از کم ایک درجن دھماکوں میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں عراق میں سیاسی اور فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور یہ دھماکے اسی سلسلے کی لڑی ہیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں فرقہ وارانہ تشدد 2006 اور 2007 میں ہونے والے بدترین تشدد کی سطح تک نہ پہنچ جائے جس میں ہزاروں لوگ مارے گئے تھے۔

ایک بم مرکزی بغداد کے تجارتی علاقے صدون سٹریٹ میں پھٹا۔ ایک عینی شاہد زین العابدین نے بتایا کہ ایک چار سالہ بچہ بھی اس کا نشانہ بننے والوں میں شامل تھا۔

وہ پوچھتے ہیں، ’ان معصوموں کا جرم کیا تھا؟‘

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ تشدد کی زد میں آنے والے دوسرے علاقوں میں المالف، جہاں چھ افراد ہلاک ہوئے، اور حبیبیہ، جہاں 12 لوگ مارے گئے، شامل ہیں۔

ابھی تک کسی تنظیم نے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی، لیکن سنی اقلیت اور شیعہ اکثریت کے درمیان کشیدگی میں گذشتہ برس سے اضافہ ہو رہا ہے۔

سنیوں نے وزیرِاعظم نوری المالکی کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان کے خلاف تعصب برتتی ہے، جب کہ حکومت کو اس سے انکار ہے۔

نوری المالکی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ عراقی کی سلامتی کی حکمتِ عملی میں جلد ہی تبدیلیاں لائیں گے، اور کہا ہے کہ عسکریت پسند ’ہمیں فرقے وارانہ فساد تک واپس لے جانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

پچھلے ہفتے عراق بھر میں حملوں کے ایک سلسلے میں 70 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھے۔ یہ کئی برسوں میں عراق میں ہونے والا بدترین تشدد تھا۔

اس ماہ عراق میں ساڑھے چار سو لوگ مارے جا چکے ہیں۔ یہ مسلسل دوسرا ایسا مہینا ہے جس میں 400 سے زائد لوگ ہلاک کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں