’چین سے تعلقات خراب نہیں ہوں گے‘

Image caption باب کار نے کہا کہ اے بی سی کی خبر کا چین اور آسٹریلیا کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ان کے ملک اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں وسیع تعاون ہے

آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ باب کار کا کہنا ہے کہ چینی ہیکروں کی جانب سے آسٹریلیا کے نئے انٹیلیجنس مرکز کے منصوبے کو چوری کرنے کی اطلاعات سے آسٹریلیا کے چین کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔

پیر کو آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن یعنی اے بی سی نے خبر دی تھی کہ چین میں موجود ایک انٹرنیٹ سرور نے غیر قانونی طور پر اس نئی عمارت کے نقشے اور سکیورٹی کے نظام کے بلو پرنٹ تک رسائی حاصل کی ہے۔

باب کار نے اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا مگر کہا کہ ان کی حکومت ’سائبر سکیورٹی‘ کی جانب سے درپیش خطرات سے پوری طرح باخبر ہے۔

آسٹریلوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’میں اس بات پر تبصرہ نہیں کروں گا کہ چینیوں نے وہ کیا ہے جس کا ان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ میں انٹیلیجنس اور سکیورٹی کے معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا جس کی ظاہری وجوہات ہیں کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم دنیا سے یا ان ممکنہ جارحیت پسندوں سے شیئر کریں کہ ہمیں معلوم ہے وہ کیا کر رہے ہیں اور کیا کرنا چاہ رہے ہیں اور کیسے کرنا چاہ رہے ہیں۔‘

باب کار نے کہا کہ اے بی سی کی خبر کا چین اور آسٹریلیا کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ان کے ملک اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں وسیع تعاون ہے۔

اے بی سی نے اپنی رپورٹ میں جو پروگرام فور کارنرز میں نشر کی گئی تھی الزام عائد کیا کہ دارالحکومت کینبرا میں زیر تعمیر انٹیلیجنس کے صدر دفتر کی عمارت کے بلو پرنٹ کو ایک سائبر حملے میں چوری کر لیا گیا تھا۔

اس پروگرام کی تحقیق کے مطابق اس حملے کے پیچھے چین میں واقع ایک انٹرنیٹ سرور تھا۔

یہ انٹیلیجنس کی عمارت اس سال کے آخر میں مکمل کی جائے گی۔

ان منصوبوں میں مواصلات کے نظام کو منسلک کرنے والی تاروں کی تفصیلات، ان کی سرورز کی جگہ کا تعین، مختلف منزلوں کے منصوبے اور سکیورٹی کے نظام کی تفصیلات بھی ہیں۔

اس پروگرام میں پروفیسر ڈیس بال جو کہ آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی میں سائبر سکیورٹی کے ماہر ہیں نے کہا کہ اس نوعیت کی معلومات تک رسائی ایک بیرونی قوت کو اس بات کے قابل بنا سکے گی کہ وہ دیکھ سکے کہ کس کمرے میں کیا ہور رہا ہے جس کے بعد وہ اس کی نگرانی کے طریقے وضع کر سکیں گے۔

اس پروگرام میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ وزیر اعظم کے دفتر، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ بھی مبینہ طور پر اس حملے کا شکار ہوئے ہیں۔

اس پروگرام میں ان معلومات کے پیچھے ذرائع پر کوئی بات نہیں کی۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہونگ لئی نے ان دعووں کو بے بنیاد الزامات کہہ کر رد کیا اور کہا کہ ’الزامات سے سائبر ہیکنگ کے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔‘

ہونگ لئی نے کہا کہ ’چونکہ یہ تکنیکی طور پر ممکن نہیں ہے کہ پتا کیا جا سکے کہ اس کا منبہ کیا تھا اور ہیکر کی شناخت پتہ کرنا مشکل ہے۔ اس کے بعد اب ہمیں کوئی اندازہ نہیں ہے کہ (فور کارنر) کی رپورٹ میں ان کے پاس کیا ثبوت ہے کہ انہوں نے اتنے یقین سے یہ دعویٰ کیا ہے۔‘

اس سال کے آغاز میں آسٹریلین فائنینشل ریویو نے چین سے تعلق رکھنے والے ہیکرز پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ آسٹریلیا کے مرکزی بینک پر ہونے والے ہیکنگ کے حملے میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔

یاد رہے کہ چین اس وقت آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔

اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ سائبر جاسوسی اگلے مہینے امریکی اور چینی صدور کے درمیان کیلیفورنیا میں ہونے والے ایک کانفرنس کا نمایاں موضوع ہو گا۔

اس مہینے کے آغاز میں پینٹاگون نے پہلی بار براہِ راست چینی حکومت اور فوج پر الزام عائد کیا کہ چینی ہیکرز نے امریکی حکومت کے کمپیوٹرز پر سائبر حملہ کیا جو کہ چین کی طرف سے سائبر جاسوسی کے حملوں کا حصہ تھا۔

امریکی حکام نے الزام عائد کیا کہ ان حملوں کے زریعے امریکی سفارت کاروں، معیشت دانوں اور دفاعی ماہرین کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا تھا۔

چین نے اس رپورٹ کو ’بے بنیاد‘ اور اسے ’امریکی بداعتمادی‘ قرار دیا۔

اسی بارے میں