ایورسٹ یا میکڈانلڈ؟

Image caption 1953 سے اب تک تین ہزار سے زیادہ افراد دنیا کے اس بلند ترین مقام پر قدم رکھ چکے ہیں

کوہ پیمائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ پر بہت زیادہ بھیڑ بھاڑ ہو گئی ہے۔ 29 مئی 1953 کو جب سر ایڈمنڈ ہلیری اور نیپالی شرپا تن زنگ دنیا کی بلند ترین چوٹی پر پہنچے تو ان سے پہلے کسی انسان کے قدم یہاں تک نہیں پہنچے تھے۔

آج وہاں انسانوں کا ہجوم نظر آتا ہے۔

نیشنل جیوگرافک کے مطابق 1990 میں ایورسٹ کو سر کرنے کے لیے آنے والے کوہ پیماؤں میں سے صرف 18 ہی چوٹی تک پہنچ پاتے تھے۔ آج 50 فیصد سے زائد کوہ پیما دنیا کے بلند ترین مقام کو سر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

اس کی بڑی وجہ کوہ پیمائی کی سائنس میں بے تحاشا ترقی ہے جس کی بدولت ریکارڈ تعداد میں کوہ پیما ایورسٹ سر کر رہے ہیں۔

2012 میں صرف ایک دن میں 234 مہم جو چوٹی پر پہنچے۔ اس کے مقابلے پر 1983 تک ایک دن میں سب سے زیادہ کوہ پیماؤں کے چوٹی سر کرنے کا ریکارڈ آٹھ تھا۔

مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما دس ہزار سے ایک لاکھ ڈالر دے کر دنیا کے سب سے اونچے مقام پر اپنا جھنڈا گاڑ سکتے ہیں۔ ایسی کئی ٹورسٹ کمپنیاں کھل گئی ہیں جو کوہ پیماؤں کو اپنا خواب پورا کرنے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرتی ہیں۔

تاہم کوہ پیماؤں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے ایک مسئلہ ضرور پیدا ہوا ہے کہ وہاں کوڑے کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ برطانوی کوہ پیما عائشہ جیسا کہتی ہیں، ماؤنٹ ایورسٹ ’مکمل طور پر تجارتی بنا دی گئی ہے۔ ہر چیز کا مقصد مغربی سیاحوں کو سہولت مہیا کرنا ہے۔‘

تجربہ کار کوہ پیما گراہم ہوئلینڈ کہتے ہیں، ’اب یہ جگہ ویرانہ نہیں رہی، بلکہ میکڈانلڈ بن گئی ہے۔‘

موسمیاتی پیش گوئی میں ترقی کی وجہ سے اب کوہ پیما زیادہ سازگار دنوں ہی میں چوٹی کا رخ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات ایک ہی دن میں چوٹی پر کوہ پیماؤں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اونچائی پر ہونے والی بیماری کے بہتر علاج سے بھی کوہ پیماؤں کو فائدہ ہوا ہے۔

ٹور پارٹیاں نسبتاً ناتجربہ کار مہم جوؤں کی سہولت کے لیے رسے باندھ دیتی ہیں، جنھیں پروفیشنل کوہ پیما حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

اس تمام پیش رفت کے باعث 1953 سے اب تک تین ہزار سے زیادہ افراد دنیا کے اس بلند ترین مقام پر قدم رکھ چکے ہیں۔

رواں برس سال تو ایورسٹ کو سر کرنے کے ریکارڈ یوں ٹوٹے کہ کیا کوئی برفانی تودہ گرتا ہو گا۔ سب سے پہلے تو ایک سعودی خاتون ایورسٹ سر کر کے یہ اعزاز حاصل کرنے والی عرب دنیا کی پہلی خاتون بن گئیں۔ پھر پہلی پاکستانی خاتون ثمینہ بیگ نے چوٹی سر کی، ان کے ہمراہ دو بھارتی جڑواں بہنیں بھی تھیں۔

پھر تین دن بعد ایک 80 سالہ جاپانی یوئی چیرو میورا ایورسٹ سر کرنے والے دنیا کے معمر ترین کوہ پیما بن گئے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوششوں کے اعداد و شمار رکھنے والے ایبرہارڈ جرگالسکی کہتے ہیں، ’اب ہر کوئی ایورسٹ کو سر کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ بہت زیادہ بیمار اور کمزور نہ ہو اور اس کے پاس وافر پیسہ اور صبر ہو۔‘

تاہم ماؤنٹ ایورسٹ کبھی کبھار اپنا رنگ دکھا کر رہتی ہے۔ 1996 میں چوٹی کے قریب 36 گھنٹوں کے اندر اندر آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جب کہ 2012 میں چوٹی پر دس کوہ پیما اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چوٹی پر ہلہ بولنے والے اناڑی کار کوہ پیماؤں کی کثرت کی وجہ سے وہاں کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آ سکتا ہے۔

اسی بارے میں