’ہتھیار شام میں غیرملکی مداخلت کا راستہ روکیں گے‘

Image caption یورپی یونین نے شامی حزبِ مخالف کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے

روس کا کہنا ہے کہ وہ شام کو ایس 300 طیارہ شکن میزائل فراہم کرنے کے فیصلے پر قائم ہے اور یہ ہتھیار شام میں غیر ملکی مداخلت کے خیال کو پنپنے سے روکنے میں مدد دیں گے۔

روس کے نائب وزیرِ خارجہ سرگئی ریابکوف کا کہنا ہے کہ یہ میزائل ’استحکام فراہم کرنے والا عنصر‘ ہیں جو کچھ ’سر پھرے‘ عناصر کو تنازعِے میں کودنے سے باز رکھیں گے۔

روس نے یورپی یونین کی جانب سے شام میں فریقین کو اسلحہ کی فراہمی پر عائد پابندی برقرار نہ رکھنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی ہے۔

سرگئی ریابکوف نے کہا کہ یہ اقدام شام میں قیامِ امن کے لیے ہونے والی کانفرنس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایس 300 میزائلوں کی فراہمی کا معاہدہ کئی سال قبل طے پایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم اس سپلائی کو ایک استحکام بخشنے والا عنصر مانتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ایسے اقدامات کچھ سرپھروں کو ایسے حالات کے بارے میں غور کرنے سے باز رکھیں گے جو اس تنازع کو بین الاقوامی شکل دے کر غیر ملکی طاقتوں کو اس میں ملوث کرےگا۔‘

نیٹو میں روس کے نمائندے الیگزینڈر گرشکو نے کہا ہے کہ ان کا ملک ہتھیاروں کی فراہمی کے سلسلے میں ’عالمی قوانین کے ڈھانچے کے عین مطابق‘ کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ایسا کچھ نہیں کر رہے جس سے شام میں حالات تبدیل ہو سکتے ہوں۔ ہم جو ہتھیار فراہم کر رہے ہیں ان کا استعمال دفاعی مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔‘

اس سے قبل یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے پیر کی شب شام میں حزبِ مخالف کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Image caption شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کا فوری فیصلہ ابھی نہیں ہوا: ولیم ہیگ

یورپی یونین کی پابندی مئی 2011 میں نافذ کی گئی تھی، اور اس کا اطلاق باغیوں اور شامی حکومت دونوں پر ہوتا ہے۔

تاہم برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ شامی باغیوں کو ’اسلحہ مہیا کرنے کا فوری فیصلہ ابھی نہیں ہوا،‘ اور بقیہ تمام پابندیاں اب بھی برقرار رہیں گی۔

برطانیہ اور فرانس بشار الاسد کے ان مخالفین کو اسلحہ فراہم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جنھیں وہ معتدل کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے شامی حکومت کو دو سالہ تنازعے کے سیاسی حل پر مائل کیا جا سکے گا۔

البتہ دوسرے ملک اس کے خلاف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے فقط تشدد کو ہوا ملے گی جس میں پہلے ہی 80 ہزار شامی باشندے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ملکوں کو انفرادی طور پر یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ شام میں اسلحہ بھیجنے کے بارے میں ان کے اپنے قواعد کیا ہیں۔

اسی بارے میں